خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 202

خطبات مسرور جلد پنجم 202 خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء پس ہم جو اس امام کی طرف منسوب ہوتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے دوستی کا اعلان فرمایا ہمیں انفرادی طور پر بھی اس سے فیض پانے کے لئے ان تمام احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جن کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی اور قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر اس کا ذکر ہے۔مثلاً فرمایا وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَمًا (الفرقان ( 64 ) که رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو جواب میں کہتے ہیں سلام۔تو یہ مومن کی نشانی ہے اور یہ اس رحمن خدا کے ماننے والے کی نشانی ہے ، یہ اس کے پیاروں کی طرف منسوب ہونے والوں کی نشانی ہے جس کی معراج آنحضرت ﷺ کی ذات تھی کہ انتہائی عاجزی اور فروتنی کے ساتھ زندگی گزاری۔غریب کے ساتھ بھی عزت سے پیش آئے ، بات کی تو ہمیشہ عزت واحترام سے کی ، جاہل کے ساتھ ( جو جاہل بدو تھے ) جو ناز یبا کلمات بھی بعض اوقات منہ سے نکال دیتے تھے ، ان کے ساتھ بھی نہایت پیار سے اور عاجزی سے اور سلامتی بھیجتے ہوئے اپنے نمونے دکھائے اور اس عاجزی کا عظیم نمونہ اس وقت قائم کیا جب فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے تھے لیکن اس پر بھی آپ کا سر عاجزی سے جھکتا چلا جارہا تھا۔اونٹ کے کجاوے کے ساتھ لگتا چلا جارہا تھا اور پھر وہاں جا کے بھی سلامتی بکھیری کہ کوئی ظلم نہیں کرنا کسی کو تل نہیں کرنا لڑائی نہیں کرنی ہوائے اس کے کہ جو تلوار اٹھاتا ہے وہ بھی مجبوری سے۔تو ہمیں بھی اسی اُسوہ پر چلنا ہوگا تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پیار کی نظر ہم پر پڑے گی اور پھر پڑتی چلی جائے گی۔پھر اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عاشق صادق نے کیا عاجزی کے نمونے دکھائے ، اس عاجزی کے کیا معیار قائم کئے۔لغو مجالس سے ہمیشہ بچتے رہے اور عاجزی کی انتہا کی وجہ سے ہی اور صرف امن قائم کرنے کے لئے نہ کہ اپنی انا کو قائم کرنے کے لئے بعض ایسے موقعے پیش آئے جہاں ظاہر اسکی کا بھی خیال تھا لیکن آپ نے عاجزی دکھاتے ہوئے اس کو بھی برداشت کیا اور اسی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو الهاماً فرمایا کہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آ ئیں۔تذکره صفحه 595 ایڈیشن چهارم مطبوعه ربوه پس ہم جو اللہ کے ان پیاروں کو ماننے والے اور ان کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے اور لغویات سے بچنے ، جھگڑوں اور فضول مجلسوں سے پہلو بچانے والے ہوں گے تو تبھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی سلامتی کے وارث بن سکیں گے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ یکم تا 7 جون 2007 ء ص 5 تا 8 )