خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 201
خطبات مسرور جلد پنجم 201 خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء والے ہوں اور دنیا کی جماعتوں کے احمدی بھی ان لوگوں کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس امتحان اور ابتلا سے جلد سے جلد نکالے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے جو ایک وعدہ ہے اور ہر احمدی کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ سَلَامٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ صَافَيْنَاهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِ۔تَفَرَّدْنَا بِذلِكَ فَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى که ابراہیم پر سلام ہو۔ہم نے اس کو خالص کیا اور رغم سے نجات دی۔ہم نے ہی یہ کام کیا سوتم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو۔(تذکره صفحه 85 ایڈیشن چهارم مطبوعه ربوه) پس دعائیں کرنا اور اللہ تعالیٰ کو پہچانا اور وحدانیت کا صحیح فہم و ادراک حاصل کرنا۔یہ ہے جو اس زمانے کے ابراہیم کے نقش قدم پر چلنے والوں کو بھی زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر فرمایا کہ اے ابراہیم ! تجھ پر سلام ، ہم نے تجھے خالص دوستی کے ساتھ چن لیا۔خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔پس جس کو اللہ تعالیٰ نے خالص دوستی کے ساتھ چن لیا ہے اس کی طرف منسوب ہونے والوں کو کیسا ہونا چاہئے۔یقیناً ان راہوں پہ چلنے والا جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والی راہیں ہیں، جو اس کی وحدانیت کو قائم کرنے والی راہیں ہیں، جو اس واحد خدا کے آگے جھکنے والی راہیں ہیں اور جن پر چل کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے وہ اعزاز پایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تجھے خالص دوستی کے ساتھ چن لیا ہے اور فرمایا۔خدا تیرے سب کام درست کر دے گا۔یعنی جب بھی ضرورت پڑی تیرے سب کام درست کرتا چلا جائے گا اور اب بھی جن میں روک ہے وہ بھی انشاء اللہ درست ہو جائیں گے اور آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ خود اتر کر آتا ہے اور اپنے فضل سے، نہ کہ ہماری کسی کوششوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوستی کا حق ادا کرتا ہے۔ہر کام سنوارتا ہے اور سنوارتا چلا جاتا ہے بلکہ اس طور سے ہرلمحہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کی بارش ہورہی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں ایم ٹی اے کے سٹاف نے اور عربوں نے مل کر Mta العربیہ کے اجراء پر ایک فنکشن کیا تھا۔تو وہاں بھی میں نے ان کو یہی کہا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو وہ ہمیشہ سے حسب ضرورت پورا کرتا چلا جا رہا ہے اور آج بھی پورا کر رہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ کرتا چلا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ تسلی دلائی ہے کہ میں دوستوں کا دوست ہوں کبھی تجھے چھوڑوں گا نہیں۔ایک نیک شخص جو دوستی کا حق ادا کرنے والا ہو، جو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے وہ بھی اپنے دوست اور دوستی کا حق ادا کرتا ہے اور نہیں چھوڑتا، وقت پر کام آتا ہے تو اللہ تعالیٰ جو سب سے زیادہ وفا کرنے والا ہے وہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اعلان کرے کہ میں نے خالص دوستی کے ساتھ تجھے چن لیا اور پھر وہ دوستی کا حق ادا نہ کرے۔