خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 199
خطبات مسرور جلد پنجم 199 خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء نہیں بگاڑ سکتے لیکن اگر خدا کی سلامتی کے نیچے ہم نہیں تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دنیا کے ہزار سلام بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 244) پس ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے وارث اُس وقت بنیں گے جب ہم اس تعلیم کے مطابق صفت سلام کو سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی سلامتی کے نیچے آنے کی کوشش کریں گے۔ہم لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ہم میں امام بھیجا اور پھر یہ تو فیق دی کہ اس امام کو مانیں ، اس مسیح و مہدی کو مانیں جس کو سلام پہنچانے کا بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور جس کو سلام کہتے ہوئے اپنے پیارے ہونے کا مرتبہ و مقام اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔یعنی خود اللہ تعالیٰ نے آپ پر سلام بھیجا ہے۔جیسا کہ ایک الہام میں آپ کو فرمایا سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنْ آمِيْنٌ ذُو عَقْلٍ مَتِيْنِ ، تیرے پر سلام ہے اے ابراہیم ! تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امانتدار اور قوی العقل ہے۔تذکره صفحه 82 ایڈیشن چهارم مطبوعه (ربوه پس ان تمام فیوض سے فیضیاب ہونے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائے اور اس سلام سے حصہ لینے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا، ہدایت کے اس سرچشمے کی ہر ہدایت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اتارا اور جس کے عشق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ابراہیم کے نام سے پکار کر سلام بھیجا تا کہ وہ تمام آگیں بھی اللہ تعالیٰ ٹھنڈی کر دے جو مخالفین نے آپ کے خلاف بھڑکائی تھیں۔جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف مخالفین نے آگ جلائی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے الہاماً آپ کو فرمایا ہے وَنَظَرْنَا إِلَيْكَ وَقُلْنَا يَا نَارُ كُونِى بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ اور ہم نے تیری طرف نظر کی اور کہا کہ اے آگ جو فتنے کی آگ قوم کی طرف سے ہے اس ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی ہو جا۔تذکره صفحه 39-40 ایڈیشن چهارم مطبوعه ربوه) تاریخ شاہد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر آپ کی زندگی میں جو بھی آگ بھڑکائی گئی وہ نہ صرف ٹھنڈی ہوئی بلکہ آپ کے لئے سلامتی کا پیغام لائی۔سلامتی کا مطلب جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ خیر اور بھلائی لانا ہے۔تو اس زمانے میں بھی مخالفت کی جو آگ دنیا کے کسی بھی خطے میں جماعت کے خلاف بھڑکائی گئی یا بھڑ کائی جا رہی ہے وہ ضرور ٹھنڈی ہوگی انشاء اللہ۔کیونکہ وہ کسی فرد کے خلاف نہیں بھڑکائی جا رہی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھڑ کائی جارہی ہے۔آپ کے ماننے والوں کے خلاف اس لئے بھڑکائی جا رہی ہے کہ انہوں نے اس زمانے کے امام کو قبول کیا۔پس اس مخالفت کی وجہ سے اگر ان چھوٹی موٹی تکالیف میں جو آجکل بعض لوگوں کو بعض جگہوں پر برداشت کرنی پڑتی ہیں ہم مبتلا کئے جارہے ہیں تو یہ بھی ایک امتحان ہے جس پر پورا اترنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔چاہے وہ سری لنکا میں ہو، بنگلہ دیش میں ہو یا پاکستان میں ہو ، اس آگ نے یقینا ٹھنڈا ہونا