خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد پنجم 198 خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (المائدة : 17) کہ اللہ اس کے ذریعہ سے انہیں جو اس کی رضا کی پیروی کریں سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے اور اپنے اذن سے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکال لاتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ جو بھی اس تعلیم کے ذریعہ سے جو آنحضرت ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اتاری تھی، اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، اسے سلامتی کی راہوں پر اللہ تعالیٰ ہدایت دے گا۔جس سے وہ اس دنیا میں بھی سلامتی بکھیر نے والا بن جائے گا اور اس کا ہر عمل اور ہر فعل اس طرح سے ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو گا۔روشنی اس کا مقدر ہو جائے گی اور اندھیرے اس سے دُور ہو جائیں گے۔پس یہ سُبُلَ السَّلام یعنی سلامتی کے راستے یقیناً وہ راستے ہیں جو خدا کی طرف لے جانے والے ہیں اور یہ اُسی وقت حاصل ہوں گے جب قرآن کریم کی تعلیم ایک مومن گلی طور پر اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر صراط مستقیم پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا قرب اس کو حاصل ہوتا ہے جس کے حصول کے لئے ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے اور وہ کرتا ہے اور یہی ذریعہ ہے جس ذریعہ سے پھر انسان دونوں جہان کے فیض پاسکتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيمٍ (يس: 59) اس لام کہا جائے گا رب رحیم کی طرف سے فرما یا سَلَمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ :(الرعد: (25) پس تمہارے لئے سلامتی ہو کیونکہ تم ثابت قدم رہے۔پس دیکھو تمہارے لئے اس گھر کا کیا ہی اچھا انجام ہے۔پس یہ ثابت قدمی بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان میں اور ان احکامات کی پابندی میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومن کو دیئے ہیں جن کے ذریعہ سے حقوق اللہ بھی ادا ہوتے ہیں اور حقوق العباد بھی ادا ہوتے ہیں۔ایک مومن کو اللہ تعالیٰ نے ایسے گھر کی خوشخبری دی ہے جو ہمیشہ رہنے والا گھر ہے۔پس یہ جو مختلف جگہوں پر بار بار السّلام خدا کا پیغام ہے، بے شمار جگہوں پر سلام کا جو لفظ استعمال ہوا ہے یہ ہمیں اس بات کی اہمیت کو سمجھنے والا بنا چاہئے۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیم کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” سلام تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو“۔فرمایا ”خدا تعالیٰ کا سلام وہ ہے جس نے ابراہیم کو آگ سے سلامت رکھا۔جس کو خدا کی طرف سے سلام نہ ہو بندے اس پر ہزار سلام کریں، اس کے واسطے کسی کام نہیں آسکتے“۔ملفوظات جلد 5 صفحه 244 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائیں“۔تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد (20 صفحه 63 پس جب یہ حالت ہوگی جس کی اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق اس زمانے کے امام نے ہمیں تعلیم دی ہے اور جس کی وہ ہم سے توقع رکھتے ہیں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کی سلامتی کے نیچے ہوں گے اور دنیا کی لعنتیں یا منصوبے ہمارا کچھ بھی