خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 194
خطبات مسرور جلد پنجم 194 خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء طرف سے ایک مکمل حفاظت کا پیغام اور وعدہ دے دیا ہے۔اُس خدا کی طرف سے جو رحم کرنے والا خدا ہے اور بار بار رحم کرنے والا خدا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی آیت ہے لیکن ایک عظیم پیغام اپنے اندر رکھتی ہے کہ اس سلامتی کے تحفے کو حاصل کرنے کے لئے ، اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بننے کے لئے اور اگلے جہان میں بھی اس سے فیض پانے کے لئے تم بھی اپنے اندر، آپس میں، یہ روح پیدا کرو۔آپس کے تعلقات میں یہ روح پیدا کرو۔ایک دوسرے کو سلامتی بھیج تو یہ تحفہ تمہیں ملتا رہے گا۔پھر اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ آپس کی سلامتی کے تحفے سے جہاں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے جنت میں جگہ پاؤ گے وہاں اس دنیا میں بھی سلامتی کی وجہ سے اپنے روح و دماغ کو بھی امن میں رکھو گے اور تمہارے لئے ، اپنی ذات کے لئے بھی اور اپنے ماحول کے لئے بھی مکمل خوشی پہنچانے والی چیز ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا بھی یہ ایک عظیم راستہ ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں رکھا ہے اس لئے تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔پس یہ سلام کو پھیلانا، آپس کی محبت پیدا کرنے کا اور معاشرے میں امن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔اس لئے بے شمار مواقع پر ، آنحضرت ﷺ نے آپس کے محبت و پیار کو قائم کرنے کے لئے سلام کو رواج دینے کی طرف توجہ دلائی ہے۔پس خدا کا سلام حاصل کرنے کے لئے ہم اپنے معاشرے میں بھی حقیقی سلامتی پھیلانے والے بنیں گے تو تبھی اس کو حاصل کرنے والے ہوسکیں گے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کونسا اسلام بہتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَّمْ تَعْرِفُ۔پہلی بات تو یہ فرمائی کہ تم کھانا کھلا ؤ اور دوسری یہ ہے کہ سلام کہو ہر اس شخص کو جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے۔(الادب المفرد لامام بخاری باب السلام من اسماء الله عز وجل حدیث نمبر (1019) (بخاری کتاب الایمان با ب اطعام الطعام من الاسلام حدیث نمبر (12 پھر ایک حدیث میں آتا ہے، حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تم سے پہلی قوموں کی بیماریاں تم میں آہستہ آہستہ داخل ہورہی ہیں۔یعنی بغض اور حسد“۔اب یہ ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اس زمانے میں بھی غور کریں تو یہ چیزیں بھی دوبارہ داخل ہو رہی ہیں بلکہ ایک انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس پیغام کو لے کے آئے تھے اس میں حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف جو تو جہ تھی اس میں بھی بغض اور حسد ایک بہت بڑی چیز ہے جو حقوق ادا نہ کرنے کی ایک وجہ بنتی ہے۔تو جماعت کو ہمیشہ اس سے محفوظ رہنا چاہئے۔