خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 193
خطبات مسرور جلد پنجم 193 (19) خطبہ جمعہ 11 مئی 2007 ء (فرمودہ مورخہ 11 مئی 2007ء (11 ہجرت 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ایک نام السّلام ہے۔قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے اس لفظ سلام کو مختلف پیرایوں میں استعمال فرمایا ہے۔اپنی صفت کے حوالے سے بھی بیان فرمایا ہے اور مومنوں کو اس صفت کو اختیار کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بھی فرمایا ہے۔اس کے معانی مختلف مفسرین اور اہل لغت نے کئے ہیں تفسیر الطبری میں علامہ ابو جعفر محمد کہتے ہیں کہ السلام وہ ذات ہے جس کی مخلوق اس کے ظلم سے محفوظ رہے۔پھر ابوالحسن الترندی کے نزدیک السَّلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔اللہ تعالیٰ کو السّلام اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر نقص ، عیب اور فنا سے سلامت ہے۔جبکہ بعض دوسرے علماء کے نزدیک وجہ تسمیہ یہ ہے یعنی اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان آفتوں سے سلامت ہے جو دوسروں کو تغیر اور فنا وغیرہ کی پہنچتی رہتی ہیں۔نیز یہ کہ وہ ایسا باقی رہنے والا دائگی وجود ہے کہ تمام مخلوقات فنا ہو جائیں گی مگر اس پرفت نہیں۔وہ ہر ایک چیز پر دائی قدرت رکھنے والا ہے۔پھر تفسیر روح البیان میں لکھا ہے السلام ہر قسم کی آفت اور نقص سے محفوظ ہے، تمام تر نقائص سے پاک ہونے کی وجہ سے اور سلامتی عطا کرنے میں بڑھا ہوا ہونے کی وجہ سے اُسے اَلسَّلام کہا گیا ہے۔اور اَنْتَ السَّلام حدیث میں آتا ہے، ( ترمذی کتاب الصلاۃ باب ما يقول اذا سلم من الصلاة حدیث : 300) نماز کے بعد جو دعا پڑھتے ہیں اس میں بھی استعمال ہوا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ تو وہ ذات ہے جو ہر قسم کے عیب سے پاک ہے اور ہر قسم کے نقص اور کمی سے مر ا ہے۔اور حدیث میں جو یہ ہے کہ مِنكَ السَّلام تو اس سے مراد یہ ہے کہ تو وہ ذات ہے جو ایک بے کس شخص کو نا پسندیدہ اور تکلیف دہ امور سے محفوظ کرتی ہے اور دونوں جہانوں کی تکلیفوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا دلاتی ہے اور تو وہ ذات ہے جو ایمان لانے والوں کے گناہوں اور عیوب کی پردہ پوشی کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت والے دن کی رسوائی سے سلامتی میں ہوں گے۔یہ لکھتے ہیں کہ مِنْكَ السَّلام کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں مومنوں پر سلامتی کا تحفہ عطا کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیم یعنی ان کو سلام کہا جائے گا جو بار بار کرم کرنے والے رب کی طرف سے ان کے لئے پیغام ہو گا۔تو اس لفظ سلام میں اللہ تعالیٰ کی