خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد پنجم 8 خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007 ء جائزہ لیا تو تربیت اور دینی معلومات کے بارے میں انتہائی بھیانک صورت حال سامنے آئی کہ بچوں کو سادہ نماز بھی نہیں آتی تھی اور تلفظ کی غلطیاں اتنی تھیں کہ کلمہ بھی صحیح طرح نہیں پڑھ سکتے تھے حالانکہ کلمہ بنیادی چیز ہے جس کے بغیر مسلمان مسلمان ہی نہیں کہلا سکتا۔بہر حال اُس وقت پاکستان میں ان معلمین کے ذریعہ جن کو معمولی ابتدائی ٹرینگ دے کر میدان عمل میں بھیج دیا جاتا تھا وقف جدید نے ان دواہم کا موں کو سرانجام دینے کا بیڑا اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت اور قربانی کے جذبے سے اس کام کو سرانجام دیا۔سندھ میں ہندوؤں کے علاقے میں تبلیغ کا کام ہوا یہ بھی بہت مشکل کام تھا۔یہ ہندو جو تھروں میں وہاں کے رہنے والے تھے۔وہاں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری کے لئے سندھ کے آباد علاقہ میں آیا کرتے تھے تو یہاں آ کر مسلمان زمینداروں کی بدسلوکی کی وجہ سے وہ اسلام کے نام سے بھی گھبراتے تھے۔غربت بھی ان کی عروج پر تھی۔بڑی بڑی زمینیں تھیں، پانی نہیں تھا اس لئے کچھ کر نہیں سکتے تھے۔آمد نہیں تھی اور اسی غربت کی وجہ سے مسلمان زمیندار جن کے پاس یہ کام کرتے تھے انہیں تنگ کیا کرتے تھے اور ان سے بریگار بھی لیتے تھے۔یا اتنی معمولی رقم دیتے تھے کہ وہ بریگار کے برابر ہی تھی۔اسی طرح عیسائی مشنوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو ان کی غربت کا فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے بھی ان کو امداد دینی شروع کی اور اس کے ساتھ تبلیغ کر کے لالچ دے کر عیسائیت کی طرف ان ہندوؤں کو مائل کرنا شروع کیا تو یہ ایک بہت بڑا کام تھا جو اس زمانے میں وقف جدید نے کیا اور اب تک کر رہی ہے۔بہر حال للہ تعالی نے مد فرمائی اور بڑے سالوں کی کوشوں کے بعد اس علاقے میں احمدیت کا نفوذ ہونا شروع ہوا۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ جو اس وقت وقف جدید کے ناظم ارشاد تھے بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں کامیابیاں ہونی شروع ہوئیں تو مولویوں نے ہندوؤں کے پاس جا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ تم یہ کیا غضب کر رہے ہو، احمدی ہونے سے تو بہتر ہے ہندو ہی رہو۔ایک خدا کا نام پکارنے سے تو بہتر ہے کہ مشرک ہی رہو یہ مسلمانوں کا حال ہے۔تو بہر حال ان سب مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مددفرمائی اور بڑا فضل فرمایا۔تھر کے علاقے مٹھی اور نگر پارکر وغیرہ میں آگے بھی جماعتیں قائم ہونا شروع ہوئیں ، ماشاء اللہ اخلاص میں بھی بڑھیں، ان میں سے واقف زندگی بھی بنے اور اپنے لوگوں میں تبلیغ کر کے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو متعارف کروایا، اس کا پیغام پہنچاتے رہے۔جب ربوہ میں جلسے ہوتے تھے تو جلسے پر یہ لوگ ربوہ آیا کرتے تھے۔میں نے دیکھا ہے کہ انتہائی مخلص اور بڑے اخلاص و وفا میں ڈوبے ہوئے لوگ تھے۔اب تو ماشاء اللہ ان لوگوں کی اگلی نسلیں بھی احمدیت کی گود میں پلی بڑھی ہیں اور اخلاص میں بڑھی ہوئی ہیں بڑی مخلص ہیں۔شروع زمانے میں وسائل کی کمی کی وجہ سے وقف جدید کے معلمین جنہوں نے میدان عمل میں کام کیا وہ بڑی تکلیف میں وقت گزارا کرتے تھے۔ان علاقوں میں طبی امداد کی میڈیکل ایڈ (Medical Aid) کی