خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 172

172 خطبہ جمعہ 27 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم راہ میں مخلص ہیں اور زمانہ کفر میں وہ لوگ تاریکی کے زندان میں قید تھے۔سو اسلام کے قبول کرنے نے ان کو منور کر دیا اور ان کی بدیوں کو نیکی کے ساتھ اور ان کی شرارتوں کو بھلائی کے ساتھ بدل دیا اور ان کی شراب شب انگاہی کو رات کی نماز اور رات کے تضرعات کے ساتھ بدل ڈالا۔یعنی جو راتوں کی شراب تھی، پیتے تھے ، نشے میں مست ہوتے تھے۔آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی نے اس کو عبادتوں میں بدل دیا۔جو ان کی صبح کی شراب تھی۔سوتے تھے تو شراب پی کر سوتے تھے، صبح اٹھتے تو پہلے کام شراب تھا جس طرح عام طور پر نشہ کرنے والے کرتے ہیں۔اور ان کی بامدادی شراب کو صبح کی نماز اور تسبیح اور استغفار کے ساتھ مبدل کر دیا اور انہوں نے یقین کامل کے بعد اپنے مالوں اور جانوں کو خدا تعالیٰ کی راہوں میں بخوشی خاطر خرچ کیا۔فرماتے ہیں: ” پس خلاصہ یہ ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت تین قسم پر منقسم تھی ، پہلی یہ کہ وحشیوں کو انسان بنایا جائے اور انسانی آداب اور حواس ان کو عطا کئے جائیں۔اور دوسری یہ کہ انسانیت سے ترقی دے کر اخلاق کا ملہ کے درجہ تک ان کو پہنچایا جائے۔اور تیسری یہ کہ اخلاق کے مقام سے ان کو اٹھا کر محبت الہی کے مرتبے تک پہنچایا جائے اور یہ کہ قرب اور رضا اور معیت اور فنا اور محویت کے مقام ان کو عطا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش ہو، اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش ہو، اس کا ساتھ دینے کی کوشش ہوا اور اس کی تلاش میں اور اس کی رضا جوئی کے لئے اپنے آپ کو فنا کرنے والے ہوں، ایسا ان کو مقام عطا ہوا۔یعنی وہ مقام جس میں وجود اور اختیار کا نشان باقی نہیں رہتا اور خدا اکیلا باقی رہ جاتا ہے۔جیسا کہ وہ اس عالم کے فنا کے بعد اپنی ذات قہار کے ساتھ باقی رہے گا۔(نجم الهدی روحانی خزائن جلد 14 صفحه 28 تا 35 جدید ایڈیشن) پھر آپ آنحضرت ﷺ کے اس مقام اور قوت قدسیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”نبی کریم ﷺ کی قوت قدسیہ اور انفاس طیبہ اور جذب الی اللہ کی قوت کا پتہ لگتا ہے کہ کیسی زبر دست قو تیں آپ کو عطا کی گئی تھیں جو ایسا پاک اور جاں شار گر وہ اکٹھا کر لیا۔یہ خیال بالکل غلط ہے جو جاہل لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یونہی لوگ ساتھ ہو جاتے ہیں۔جب تک ایک قوت جذب اور کشش کی نہ ہو کبھی ممکن نہیں ہے کہ لوگ جمع ہو سکیں۔میرا مذہب یہ ہے کہ آپ کی قوت قدسی ایسی تھی کہ کسی دوسرے نبی کو دنیا میں نہیں ملی۔اسلام کی ترقی کا راز یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی قوت جذب بہت زبر دست تھی اور پھر آپ کی باتوں میں وہ تا ثی تھی کہ جو سنتا تھاوہ گرویدہ ہوجاتا تھا۔جن لوگوں کو آپ نے کھینچا ان کو پاک صاف کر دیا اور اس کے ساتھ آپ کی تعلیم ایسی سادہ اور صاف تھی کہ اس میں کسی قسم کے گورکھ دھندے اور معمے تثلیث کی طرح نہیں ہیں۔لکھتے ہیں کہ ”چنانچہ نپولین کی بابت لکھا ہے کہ وہ مسلمان تھا اور کہا کرتا تھا کہ اسلام بہت