خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 171
خطبات مسرور جلد پنجم 171 خطبہ جمعہ 27 اپریل 2007 ء سے قتل کرتے تھے کہ تا شرکاء میں سے ان کا کوئی داماد نہ ہو۔اور اسی طرح انہوں نے اپنے اندر اخلاق رویہ اور رزیل خصلتیں جمع کر رکھی تھیں۔پھر فرماتے ہیں اور عورتیں زانیہ آشناؤں سے تعلق رکھنے والیں اور مردزانی پیدا ہو گئے تھے اور جو لوگ ان کی راہ کے مخالف ہوتے تھے ، وہ نصیحت دینے کے وقت اپنی عزت اور جان اور گھر کی نسبت خوف کرتے تھے“۔یعنی اگر ان میں کوئی شریف آدمی تھا تو وہ اپنی عزت بچانے کے خوف کی وجہ سے، اپنے گھر کو برباد ہونے سے بچانے کی وجہ سے ان کے سامنے بولتا نہیں تھا۔غرض عرب کے لوگ ایک ایسی قوم تھی جن کو کبھی واعظوں کے وعظ سنے کا اتفاق نہ ہوا اور نہیں جانتے تھے کہ پر ہیز گاری اور پرہیز گاروں کی خصلتیں کیا چیز ہیں اور ان میں کوئی ایسانہ تھا کہ جو کلام میں صادق اور فیصلہ مقدمات میں متصف ہو۔یعنی کوئی سچی بات نہیں کرتے تھے ، فیصلہ کرتے تھے تو انصاف نہیں ہوتا تھا، نا انصافی سے فیصلے ہوتے تھے۔کوئی اچھی خصلت ، اچھی خوبی ان میں نہیں تھی۔پس اسی زمانے میں جبکہ وہ لوگ ان حالات اور ان فسادوں میں مبتلا تھے اور ان کا تمام قول اور فعل فساد سے بھرا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے مکہ میں سے اُن کے لئے رسول پیدا کیا اور وہ نہیں جانتے تھے کہ رسالت اور نبوت کیا چیز ہے اور اس حقیقت کی کچھ بھی خبر نہ تھی۔پس انکار اور نافرمانی کی۔وہ جانتے نہیں تھے اس لئے انہوں نے انکار اور نافرمانی کی اور اپنے کفر اور فسق پر اصرار کیا۔اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے ہر ایک جفا کی برداشت کی۔ہر زیادتی جو آنحضرت ﷺ پر کی ، آپ نے اس کو برداشت کیا اور ایذاء پر صبر کیا اور بدی کو نیکی کے ساتھ اور بغض کو محبت کے ساتھ ٹال دیا اور غمخواروں اور متبوں کی طرح ان کے پاس آیا اور ایک مدت تک آنحضرت ﷺا کیلے اور رڈ شدہ انسان کی طرح مکہ کی گلیوں میں پھرتے رہے اور قوت نبوت سے ہر ایک عذاب کا مقابلہ کیا۔تو یہ تھا اس وقت عرب قوم کا حال جس میں آپ تمبعوث ہوئے لیکن وہ خدا جس نے روح القدس کے ساتھ آپ کو بھیجا تھا اور آپ کے ذریعہ دنیا میں ایک انقلاب لانا تھا اس نے ان لوگوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔(نجم الهدى ، روحانی خزائن جلد (14 صفحه 20 تا 28 آنحضرت ﷺ کے بارے میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پھر ایسا وقت آیا کہ آواز دینے والے بابرکت کی طرف دل کھنچے گئے۔یعنی پھر آنحضرت ﷺ کی طرف دل کھنچے جانے لگئے اور ہر ایک رشید اپنے قتل گاہ کی طرف صدق اور وفا سے نکل آیا اور انہوں نے مالوں اور جانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کوششیں کیں اور اپنی جانفشانی کی نذروں کو پورا کیا۔اسلام کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں، اپنا مال قربان کر دیا ، اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور اس کے لئے یوں ذبح کئے گئے جیسا کہ قربانی کا بکرا ذبح کیا جاتا ہے۔اور انہوں نے اپنے خونوں سے گواہی دے دی کہ وہ ایک سچی قوم ہے اور اپنے اعمال سے ثابت کر دیا کہ وہ لوگ خدا کی