خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 166
خطبات مسرور جلد پنجم 166 خطبہ جمعہ 27 اپریل 2007 ء میں سورۃ الاخلاص اور سلام پھیرنے کے بعد آپ تین بار یہ الفاظ دوہراتے اور اپنی آواز بلند کرتے تھے کہ سُبحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوس پاک ہے وہ ذات جو بادشاہ ہے، قدوس ہے۔(سنن النسائی کتاب قيام الليل وتطوع النهار باب التسبيح بعد الفراغ من الوتر۔حديث نمبر (1751 ایک روایت میں آتا ہے ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی صبح بھی ایسی نہیں جس میں بندے صبح کریں کہ اس میں ایک منادی کرنے والا ان الفاظ میں منادی کرتا ہے سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ یعنی پاک ہے وہ ذات جو صلى الله بادشاہ ہے اور قدوس ہے۔(سنن الترمذى كتاب الدعوات باب فى دعاء النبي علم و تعوذه دبر كل صلاة حديث نمبر (3569) الـ پھر ایک روایت ہے۔حضرت يُسَيْرَه رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو مہاجرات میں سے تھیں بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا: ”تم لازم پکڑو تسبیح کو تہلیل کو اور تقدیس کو “۔یعنی تسبیح کرو تہلیل ہے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان کرنا، اس کے علاوہ کسی کو معبود نہ مانا، لا الہ الا اللہ کہنا اور تقدیس یعنی اللہ تعالیٰ کو پاک اور بے عیب قرار دیا اور یہ عہد کرنا کہ ہم اپنے نفسوں کو تیری خاطر پاک رکھیں گے اور یہی ایک مومن کی شان بھی ہونی چاہئے ورنہ دعوے تو ہم کر رہے ہوں گے کہ ہم قدوس خدا کے ماننے والے ہیں اور اس رسول کے پیروکار ہیں جس کی قوت قدسی تمام انبیاء سے بڑھ کر ہے اور رہتی دنیا تک اس کے جلوے قائم رہنے ہیں لیکن اگر اپنے آپ کو پاک نہیں کر رہے تو یہ تقدیس نہیں ہے۔فرمایا کہ: "لازم پکڑو تسبیح و تہلیل کو اور تقدیس کو اور انگلیوں کے پوروں پر گنا کرو، اس لئے کہ قیامت کے دن ان سے سوال کیا جائے گا، اور وہ بولیں گی اور غافل نہ ہو، ورنہ تم رحمت کو بھول جاؤ گی۔(سنن الترمذى كتاب الدعوات باب فى فضل التسبيح والتهليل والتقديس حديث نمبر (3583 | پھر ایک روایت میں آتا ہے آپ نے ایک دعا سکھائی، حضرت فضالہ بن عبید انصاری بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے ایک دم سکھایا اور حکم دیا کہ اگر کوئی میرے پاس دم لینے کے لئے آئے تو یہ دم کروں۔تو وہ دُعا یہ تھی کہ ہمارا رب وہ اللہ ہے جو آسمان میں ہے (اے رب)، تیرا نام پاک اور مبارک ہے، آسمان اور زمین میں تیری حکومت ہے ، اے اللہ ! جس طرح تیری حکومت آسمان میں ہے، اسی طرح تو ہم پر زمین میں اپنی رحمت نازل کر۔اے اللہ ! جو پاک لوگوں کا رب ہے ہمارے گناہ اور خطائیں بخش دے اور اپنی رحمت میں سے ایک رحمت نازل کر اور اپنی شفا میں سے ایک شفانا زل کر۔اور پھر آپ نے یہ فرمایا کہ یہ کلمات تین مرتبہ دوہراؤ اور معوذتین بھی تین مرتبہ پڑھو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 مسند فضالة بن عبيد الانصارى حديث نمبر 24457 صفحه نمبر 934 جدید ایڈیشن مطبوعه بيروت 1998ء) معوذتین یعنی یہ دو سورتیں جو قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے، یہ شَرحُ السُّنة میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو