خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 164
164 خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم سمجھنا۔غرض ہر یک طرح کی بری حالت اور ہر یک نوع کا اندھیرا اور ہر قسم کی ظلمت و غفلت عام طور پر تمام عربوں کے دلوں پر چھائی ہوئی ہونا ایک ایسا واقعہ مشہور ہے کہ کوئی متعصب مخالف بھی بشر طیکہ کچھ واقفیت رکھتا ہو، اس سے انکار نہیں کر سکتا۔یعنی یہ اتنی مشہور بات ہے کہ کوئی متعصب آدمی بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا۔اور پھر یہ امر بھی ہر یک منصف پر ظاہر ہے کہ وہی جاہل اور وحشی اور یا وہ اور ناپار ساطبع لوگ وحشی تھے ، بیہودہ باتیں کرنے والے بیہودہ لوگ ، بالکل ناپاک لوگ جن کو کسی چیز کا پتہ ہی نہیں تھا۔”اسلام میں داخل ہونے اور قرآن کو قبول کرنے کے بعد کیسے ہو گئے اور کیونکر تاثیرات کلام الہی اور صحبت نبی معصوم نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ان کے دلوں کو یکانت ایسا مبدل کر دیا کہ وہ جہالت کے بعد معارف دینی سے مالا مال ہو گئے اور محبت دنیا کے بعد الہی محبت میں ایسے کھوئے گئے کہ اپنے وطنوں ، اپنے مالوں، اپنے عزیزوں، اپنی عزتوں، اپنی جان کے آراموں کو اللہ جل شانہ کے راضی کرنے کے لئے چھوڑ دیا۔چنانچہ یہ دونوں سلسلے ان کی پہلی حالت اور اس نئی زندگی کے جو بعد اسلام انہیں نصیب ہوئے ، قرآن شریف میں ایسی صفائی سے درج ہیں کہ ایک صالح اور نیک دل آدمی پڑھنے کے وقت بے اختیار چشم پر آب ہو جاتا ہے۔پس وہ کیا چیز تھی جو اُن کو اتنی جلدی ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف کھینچ کر لے گئی۔وہ دوہی باتیں تھیں ایک یہ کہ وہ نبی معصوم اپنی قوت قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثر تھا بہت اثر رکھنے والے تھے۔ایسا کہ نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔دوسری خدائے قادر مطلق حتی وقیوم کے پاک کلام کی زبر دست اور عجیب تا شیریں تھیں کہ جو ایک گروہ کثیر کو ہزاروں ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں۔بلاشبہ یہ قرآنی تاثیریں خارق عادت ہیں۔یہ بڑی غیر معمولی چیزیں ہیں۔کیونکہ کوئی دنیا میں بطور نظیر نہیں بتلا سکتا کہ کبھی کسی کتاب نے ایسی تاثیر کی۔کون اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ کسی کتاب نے ایسی عجیب تبدیل و اصلاح کی جیسی قرآن شریف نے کی“۔سرمه چشم آریه روحانی خزائن جلد 2 صفحه 76 تا 78 حاشیه مطبوعه (لندن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کی تاثیرات کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ اب تک وہ چلی جاتی ہیں۔قرآن شریف کی تعلیم میں وہی اثر ، وہی برکات اب بھی موجود ہیں۔ملفوظات جلد 4 صفحه 630 پس جب خدا بھی وہی قدوس ہے تو جو اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے وہ اس سے فیض پاتا ہے۔اس کے رسول کی تاثیرات بھی قائم ہیں، اس کی کتاب کی تاثیریں بھی قائم ہیں، اس زمانے میں اُس نے اپنے مسیح و مہدی کی قوت قدسی کے نظارے بھی ہمیں دکھا دیئے اور دکھا رہا ہے۔یہ سب باتیں ہمیں اس قدوس خدا کی صفت سے فیضیاب بنانے والی ہونی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔( مطبوعه الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 11 تا 17 مئی 2007ء ص 5 تا 7 )