خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 155
155 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم میں بھی ہے، مجھے امید ہے کہ چندہ عام کی طرف بھی ان کی توجہ ہوگی کیونکہ باقی تحریکات میں بہت زیادہ ہے۔نائیجیریا میں عمومی طور پر ملکی ترقی میں انحطاط ہے، باوجود ان کے وسائل ہونے کے، ان کے پاس تیل کی دولت ہونے کے، کر پشن اتنی زیادہ ہے کہ وہاں ترقی نہیں ہو رہی بلکہ ملک گرتا چلا جارہا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہی لوگ جو جماعت میں شامل ہوئے ہیں ان کے مزاج بالکل بدل گئے ہیں۔اللہ کرے یہ پاک تبدیلی ان میں بڑھتی چلی جائے اور دوسرے افریقن اور غریب ممالک کے احمدی بھی ، احمدیت کے اونچے معیاروں کی طرف توجہ کرنے والے ہوں، اپنی مالی قربانیوں کی طرف توجہ کرنے والے ہوں اور یہ احساس ان میں پیدا ہو کہ ہم نے اپنے نفس کی پاکیزگی کے لئے یہ مالی قربانیاں کرنی ہیں۔حُبُّ الوَطَنِ مِنَ الايْمَانِ، كشف الخفاء جلد 1 از اسماعيل بن محمد العجلاني الجراحى مطبوعہ بیروت (1405) وطن کی محبت بھی ایمان کا حصہ ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ہر احمدی کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے ، روحانیت میں بڑھتے چلے جانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اعلیٰ اخلاق میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے ، قربانیوں میں ترقی کرتے چلے جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔امیر ملکوں کے احمدی بھی اور غریب ملکوں کے احمدی بھی، اس بات پر عمل کرتے ہوئے کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے جہاں اپنے ہم وطنوں کے لئے دعائیں کریں ، وہاں یہ کوشش بھی کریں کہ ان میں بھی اخلاقی اور روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے ہوں تا کہ اپنے اپنے ملکوں میں ایک انقلاب لا سکیں۔پس ہر احمدی اس بات کی طرف خاص توجہ کرے کہ اس نے اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہے، اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے معیار کو بھی بلند کرنا ہے تبھی دنیا میں حقیقی انقلاب لانے والے بن سکیں گے اور اپنے آپ کو بھی اس معیار پر لانے والے بن سکیں گے جس پر اللہ تعالیٰ ہمیں لانا چاہتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ میں فرمایا:۔ایک افسوسناک اطلاع ہے کہ جماعت کے ایک بزرگ مکرم چوہدری حبیب اللہ صاحب سیال جن کی عمر 80 سال تھی ، اپنی زمینوں پر ، ڈیرہ پر رہا کرتے تھے۔ان کو 8 اپریل کی صبح چند نا معلوم افراد نے شہید کر دیا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کا گھر نماز سنٹر تھا۔وہیں ظہر و عصر اور مغرب کی نماز ہوتی تھی۔رات کے کسی وقت چند افراد نے ان کے گھر جا کر ان پر وار کیا، بلکہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق پہلے ان کو باندھا گیا، ٹانگیں باندھیں ، ان کے ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے، تکیہ دبا کر ان کا سانس روکا گیا اس سے ان کی شہادت ہوئی۔اس کے بعد چھری کا وار بھی کیا گیا۔خون نکلا ہوا تھا۔بہر حال اگلے دن ان کی بہو جب گئیں تب پتہ لگا کہ اندر ان کی نعش پڑی تھی۔انہوں نے احمدیوں کو اطلاع دی ، پولیس کو اطلاع دی گئی تو بہر حال پتہ لگ رہا ہے کہ قریب کے کچھ ایسے شر پسند لوگ