خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 154
خطبات مسرور جلد پنجم 154 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : جو خدا کے آگے تقویٰ اختیار کرتا ہے، خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بتا دیتا ہے اور فرمایا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 4) وہ متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں، وعدوں کو سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے۔پس خدا پر ایمان لاؤ، خدا سے ڈرنے والے ہرگز ضائع نہیں ہوتے۔يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 3) یہ ایک وسیع بشارت ہے، تم تقویٰ اختیار کر وخدا تمہارا کفیل ہوگا۔اس کا جو وعدہ ہے وہ سب پورا کر دے گا“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود تفسیر سورۃ الطلاق جلد چہارم صفحہ 402) بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ جائز ہیں یا نا جائز ہیں ، ان کو چھوڑ نا بڑا مشکل ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کو رازق نہیں سمجھتے۔کچھ عرصہ ہوا میں نے کہا تھا کہ جو لوگ سور کے گوشت پکانے یا بیچنے یا براہ راست اس کے کاروبار میں ملوث ہیں، اس سے منسلک ہیں، وہ یہ کام نہ کریں یا اگر کرنا ہے تو پھر ایسے لوگوں سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔جس پر جرمنی کی جماعت نے ماشاء اللہ بڑی سختی سے عمل کیا ہے۔باقی جگہ دوسرے ملکوں میں بھی یہ ہونا چاہئے۔لیکن مجھے بعض لوگوں نے جو ایسی جگہوں پر کام کرتے تھے لکھا کہ ہماری تو روزی ماری جائے گی ، یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا۔تو میں نے کہا جو بھی ہوگا اگر براہ راست اس کام میں ملوث ہو تو پھر تم سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔تم نے یہ روزی کھانی ہے تو کھاؤ، اللہ کے مال میں اس کا حصہ نہیں ڈالا جائے گا۔اگر تمہاری اضطراری کیفیت ہے تو اپنے پر لاگو کر لو، اس کو استعمال کر لولیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت پر کوئی ایسی اضطراری کیفیت نہیں ہے۔اللہ جماعت کی ضروریات کو پوری کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا چلا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں انشاء اللہ کی نہیں آنے دوں گا۔حسب ضرورت انشاء اللہ جس طرح ضرورت ہوتی ہے اللہ پوری فرماتا ہے تو جماعت کو بھی میری اس بات سے بڑی فکر تھی کہ بہت سارے لوگوں سے اس طرح چندہ لینا بند ہو جائے گا۔لیکن اب مجھے سیکرٹری صاحب مال نے وہاں سے لکھا ہے کہ اس دفعہ جو بجٹ آئے ہیں وہ اتنے اضافے کے ساتھ آئے ہیں کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، پہلے کبھی اتنا اضافہ ہوا ہی نہیں۔تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يحتسب (الطلاق: 4 )۔پس اللہ تعالیٰ دے گا اور وہم وگمان سے بڑھ کر دے گا اور دیتا ہے لیکن تقویٰ پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔عمومی طور پر دنیا میں ہر جگہ چندہ عام میں اضافہ ہورہا ہے اور یہی مد اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے اخراجات پورے کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔لیکن افریقن ممالک کو میں توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ ان میں جس طرح اس طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے تھی، توجہ پیدا نہیں ہورہی۔افریقن ممالک میں نائیجیریا میں جماعت کے ہر شعبہ میں ترقی نظر آ رہی ہے اور اسی طرح چندوں