خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 141
141 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم پس اللہ تعالیٰ کی بخشش کی مثالوں کے باوجود، جو میں نے پہلے بیان کی ہیں، آنحضرت ﷺ کا اپنے لئے دعا کرنا جن کے لئے یہ زمین اور آسمان پیدا کئے گئے تھے ، جو اللہ تعالیٰ کے سلوک کا بھی سب سے زیادہ اور اک رکھتے تھے ، آپ جن سے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ پیار کرتا تھا اور آج تک کرتا ہے کیونکہ آپ کے وسیلے سے ہی خدا ملتا ہے اور آپ بھی سب سے زیادہ خدا کو پیار کرنے والے تھے، آپ کا یہ دعا کرنا کہ مجھے آگ کے عذاب سے بچا، یہ بتاتا ہے کہ حقیقی مومن اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنتے ہوئے دعا کی طرف توجہ دیتا ہے اور بخشش عطا کرنے والی حدیث میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ بخشش طلب کرو، یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس خدا کے در پر جانا ضروری ہے ، اس کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے ،تب ہی وہ صورتحال پیدا ہوگی جب 100 آدمیوں کے قاتل کے لئے گناہوں کی طرف والی زمین لمبی کر دی گئی ، فاصلہ بڑھا دیا گیا اور نیکیوں کی طرف جانے والی زمین سکیٹر دی گئی۔کیونکہ وہ اس کوشش میں لگ گیا تھا کہ اللہ سے بخشش طلب کرے۔پس گنا ہوں کا اعتراف کرتے ہوئے بخشش طلب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف کرنا اس کی عبادت کرنا، آگ سے بچنے کا ذریعہ بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو دعا کی بھی توفیق دے اور اپنی پناہ میں بھی رکھے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات والے آسمان پر اترتا ہے۔جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ کون ہے جو مجھے پکارے تا میں اس کی دعا کو قبول کروں۔کون ہے جو مجھ سے مانگے تا میں اسے عطا کروں۔کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تا میں اسے بخشوں۔(بخاری کتاب التهجد باب الدعاء والصلوة من آخر الليل حديث: 1145) یہ بخاری میں درج ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے ہی ایک مسلم کی بھی روایت ہے اس میں یہ ہے کہ ہر رات جب اس کا ابتدائی، تیسرا حصہ گزر جاتا ہے، دنیا کے آسمان پر اللہ تعالیٰ اترتا ہے اور کہتا ہے که اَنَا الْمَلِكُ اَنَا الْمَلِكُ ، یعنی میں اس کا حقیقی مالک ہوں، اور بادشاہ ہوں۔جو بھی مجھ سے دعا کرے گا میں اس کے لئے اسے قبول کروں گا اور جو مجھ سے مانگے گا تو میں اسے دوں گا اور جو مغفرت طلب کرے گا میں اس کو بخش دوں گا اور وہ اسی طرح طلوع فجر تک رہتا ہے۔(مسلم کتاب صلواة المسافرین و قصرها باب الترغيب فى الدعاء والذكر في آخر الليل والاجابة فيه حديث : 1657) دیکھیں جو زمین و آسمان کا مالک ہے وہ خود آواز دے رہا ہے، خود پکار رہا ہے کہ آؤ اور مجھ سے مانگو، مجھ سے لو، یہ جو میرے خزانے ہیں ان کو حاصل کرو، میں تم سب کو بھی دیتا رہوں تو میرے خزانوں میں کمی نہیں آتی۔کسی بادشاہ کو تو اپنے خزانے میں کمی کا خوف ہو سکتا ہے لیکن مجھے نہیں۔اللہ فرماتا ہے میرے خزانوں میں تو اتنی کمی بھی نہیں آتی جتنی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبو کر اس سوئی کے ساتھ پانی کا قطرہ لگ جانے سے آتی ہے۔(مسلم كتاب البر والصلة باب تحريم الظلم حديث : 6467) |