خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 121

121 خطبہ جمعہ 23 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کے علماء کو دیکھ سکوں اور تاکہ میری آنکھیں وہاں کے اولیاء کرام سے مل کر اور وہاں کے عظیم مناظر کو دیکھ کر ٹھنڈی ہوں۔پس میری خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے اپنی بے پایاں عنایت سے آپ لوگوں کی سرزمین کی زیارت نصیب فرمائے اور آپ لوگوں کے دیدار سے مجھے خوش کر دے۔اے میرے بھائیو! مجھے تم سے اور تمہارے وطنوں سے بے پناہ محبت ہے۔مجھے تمہاری راہوں کی خاک اور تمہاری گلیوں کے پتھروں سے بھی محبت ہے اور میں تم ہی کو دنیا کی ہر چیز پر ترجیح دیتا ہوں۔اے عرب کے جگر گوشو! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو خاص طور پر بے پناہ برکات ، بے شمار خوبیوں اور عظیم فضلوں کا وارث بنایا ہے۔تمہارے ہاں خدا کا وہ گھر ہے جس کی وجہ سے اُم القریٰ کو برکت بخشی گئی اور تمہارے درمیان اس مبارک نبی کا روضہ ہے جس نے تو حید کو دنیا کے تمام ممالک میں پھیلایا اور اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کیا۔تم ہی میں سے وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے سارے دل اور ساری روح اور کامل عقل وسمجھ کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کی اور خدا کے دین اور اس کی پاک کتاب کی اشاعت کیلئے اپنے مال اور جانیں فدا کر دیں۔بے شک یہ فضائل آپ لوگوں ہی کا خاصہ ہیں اور جو آپ کی شایان شان عزت و احترام نہیں کرتا وہ یقینا ظلم و زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے۔اے میرے بھائیو! میں آپ کی خدمت میں یہ خط ایک زخمی دل اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔پس میری بات سنو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے“۔عربی عبارت کا اردو ترجمه آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحه 419 تا 422 پھر آپ فرماتے ہیں: ”اے عرب کے شریف النفس اور عالی نسب لوگو! میں قلب و روح سے آپ کے ساتھ ہوں۔مجھے میرے رب نے عربوں کے بارے میں بشارت دی ہے اور الہا نا فرمایا ہے کہ میں اُن کی مدد کروں اور انہیں ان کا سیدھا راستہ دکھاؤں اور ان کے معاملات کی اصلاح کروں اور اس کام کی انجام دہی میں مجھے آپ لوگ انشاء اللہ تعالیٰ کامیاب و کامران پائیں گے۔اے عزیز و! اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کی تائید اور اس کی تجدید کیلئے مجھ پر اپنی خاص تجلیات فرمائی ہیں اور مجھ پر اپنی برکات کی بارش برسائی ہے اور مجھ پر قسم ہا قسم کے انعامات کئے ہیں اور مجھے اسلام اور نبی کریم ﷺ کی امت کی بدحالی کے وقت میں اپنے خاص فضلوں اور فتوحات اور تائیدات کی بشارت دی ہے۔پس اے عرب قوم ! میں نے چاہا کہ تم لوگوں کو بھی ان نعمتوں میں شامل کروں۔میں اس دن کا شدت سے منتظر تھا۔پس کیا تم خدائے رب العالمین کی خاطر میرا ساتھ دینے کیلئے تیار ہو؟“ ور ( عربی سے اردو ترجمه ، حمامة البشرى۔روحانی خزائن جلد 7 صفحه 182-183 پس اے سرزمین عرب کے باسیو! آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نمائندے کی حیثیت سے خدائے رب العالمین کے نام پر تم سے درخواست کرتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اس روحانی فرزند کی آواز