خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 120

خطبات مسرور جلد پنجم 120 خطبہ جمعہ 23 مارچ 2007ء زمین عـلــى دِينِ وَاحِدٍ جمع ہوں اور وہ ہو کر رہیں گے۔ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی کسی قسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایسا ہو گا جو قابل ذکر اور قابل لحاظ نہیں“۔(ملفوظات جلد 4 صفحه 57-5 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جلد اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے دین واحد پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم اپنی زندگیوں میں یہ نظارے دیکھیں۔آج جیسا کہ میں نے کہا کہ mta3 الْعَرَبِيَّة کا اجراء بھی ہو رہا ہے ، اس لئے اس مناسبت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں، آپ نے عربوں کو مخاطب ہو کر جو پیغام دیا ہے اس کا کچھ حصہ پڑھتا ہوں۔اس کا تو صرف میں ترجمہ ہی پڑھوں گا۔اللہ تعالیٰ جلد عرب دنیا کے بھی سینے کھولے اور وہ زمانے کے امام کو پہچان لے۔آپ عرب دنیا کو اپنا پیغام دیتے ہوئے فرماتے ہیں: السلام علیکم ! اے عرب کے تقوی شعار اور برگزیدہ لوگو! السلام علیکم، اے سرزمین نبوت کے باسیو! اور خدا کے عظیم گھر کی ہمسائیگی میں رہنے والو! تم اقوام اسلام میں سے بہترین قوم ہو اور خدائے بزرگ و برتر کا سب سے چنیدہ گروہ ہو۔کوئی قوم تمہاری عظمت کو نہیں پہنچ سکتی۔تم شرف و بزرگی میں اور مقام و مرتبہ میں سب پر سبقت لے گئے ہو۔تمہارے لئے تو یہی فخر کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا آغاز حضرت آدم سے کر کے اس نبی پر ختم کیا جو تم میں سے تھا اور تمہاری ہی زمین اس کا وطن اور مولد و مسکن تھی۔تم کیا جانو کہ اس نبی کی کیا شان ہے۔وہ محمد مصطفی۔تی ہے ، برگزیدوں کا سردار، نبیوں کا فخر ، خاتم الرسل اور دنیا کا امام۔آپ کا احسان ہر انسان پر ثابت ہے اور آپ کی وحی نے تمام گزشتہ رموز و معارف اور نکات عالیہ کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔اور جو معارف حقہ اور ہدایت کے راستے معدوم ہو چکے تھے ان سب کو آپ کے دین نے زندہ کر دیا۔اے اللہ ! تو روئے زمین پر موجود پانی کے تمام قطروں اور ذروں اور زندوں اور مردوں اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ ظاہر یا مخفی ہے ان سب کی تعداد کے برابر آپ پر رحمت اور سلامتی اور برکت بھیج۔اور ہماری طرف سے آپ کو اس قدر سلام پہنچا جس سے آسمان کناروں تک بھر جائیں۔مبارک ہے وہ قوم جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کا جواً اپنی گردن پر رکھا۔اور مبارک ہے وہ دل جو آپ ﷺ تک جا پہنچا اور آپ میں کھو گیا اور آپ کی محبت میں فنا ہو گیا۔اے اس زمین کے باسیو جس پر حضرت محمد مصطفی کے مبارک قدم پڑے اللہ تم پر رحم کرے اور تم سے راضی ہو جائے اور تمہیں راضی برضا کر دے۔اے بندگان خدا! مجھے تم پر بہت حسن ظن ہے اور میری روح تم سے ملنے کیلئے پیاسی ہے۔میں تمہارے وطن اور تمہارے بابرکت وجودوں کو دیکھنے کیلئے تڑپ رہا ہوں تا کہ میں اس سرزمین کی زیارت کر سکوں جہاں حضرت خیر الوریٰ ﷺ کے مبارک قدم پڑے اور اس مٹی کو اپنی آنکھوں کیلئے سرمہ بنالوں اور میں مکہ اور اس کے صلحاء اور اس کے مقدس مقامات اور اس