خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 2
خطبات مسرور جلد پنجم 2 خطبہ جمعہ 05 جنوری 2007 ء نہ ہونے دیں۔اپنے ماضی پر نظر ڈالتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کے صدقے ، اپنی صفت رحمانیت کے تحت آپ کے لئے اس ملک میں آنے کا موقع بہم پہنچایا جس کے لئے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔اور یہ شکر گزاری کس طرح ہو سکتی ہے؟ یہ شکر گزاری نیکیوں پر قائم ہوتے ہوئے ہوسکتی ہے۔یہ شکر گزاری احمدیت کے پیغام کو اس ملک کے ہر فرد تک پہنچانے سے ہوسکتی ہے۔یہ شکر گزاری اللہ تعالیٰ کے گھروں کی تعمیر سے ہو سکتی ہے جسے مسجد کہتے ہیں۔یہ شکر گزاری ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے ہوگی۔یہ شکر گزاری نظام جماعت کی اطاعت سے ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ شکر گزاری آپ کے عبادت کے معیار بڑھنے سے ہوگی۔پس اس بات کو سمجھیں اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں تو آپ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے بنیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد کیا تھا؟ آپ فرماتے ہیں ”میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قومی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں، کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ ومراتب پر رکھتا ہے، اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیا وی اسباب پر ہے، یہ یقین اور یہ بھروسہ ہر گز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں، زبانوں پر بہت کچھ ہے۔فرماتے ہیں ”زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے “۔منہ سے تو بہت کچھ کہتے ہیں مگر دل وہ نہیں کہتے۔فرمایا کہ میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔(كتاب البرية روحانی خزائن جلد 13 صفحه 291 تا 293 حاشیه پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔اپنے دلوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے ،تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے جس سچائی کو ماننے کی آپ کو توفیق ملی اس کو اپنے پر بھی لاگو کریں، اللہ تعالیٰ کی محبت سے دلوں کو بھرنے والے ہوں اور اس محبت کا شربت دوسروں کو بھی پلائیں تا کہ اس توحید کے مزے سے دوسرے بھی روشناس ہوں، ان کو بھی پتہ لگے کہ کیا مزا ہے۔دوسری قسم کے احمدی جن کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق دی جن کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی مسلمانوں سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شامل ہونے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو پورا کرنے والے بننے والے اور پھر یہاں کے مقامی لوگ جن کا میں نے ذکر کیا تھا جو عیسائیت سے اسلام میں شامل ہوئے ہیں اور مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو کر اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والے بنے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلتے ہوئے اس سے براہ راست تعلق پیدا ہو اور اس نظریہ کو ر ڈ کرنے والے بنیں جو ایک بندے کو خدا کے مقابل پر کھڑا کر کے شرک کی تعلیم دیتا ہے۔پس آپ لوگوں کو اللہ کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے نیکیوں کے معیار بڑھاتے ہوئے ، احمدیت کے پیغام کو آگے پہنچانے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔اس کے لئے جماعت کومل کر بہت