خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 111

111 خطبہ جمعہ 16 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ہے کہ ان لوگوں میں سے بھی وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچیں گے جن کو اللہ تعالیٰ سیدھا راستہ دکھائے گا۔پس اس طرف توجہ کرنی چاہئے اور ان لوگوں کو سمجھانا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "پانچواں سمندر ملِكِ يَوْمِ الدِّين ( کی صفت ) ہے اور اس سے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة : 7) کا جملہ مستفیض ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کے (انسان کو ضلالت اور گمراہی میں چھوڑ دینے کی حقیقت لوگوں پر مکمل طور پر جزا اور سزا کے دن ہی ظاہر ہو گی۔جس دن اللہ تعالیٰ اپنے غضب اور انعام کے ساتھ جلوہ گر ہو گا اور ان کو اپنی طرف سے ذلت دے کر یا عزت دے کر ظاہر کر دے گا۔اور اس حد تک اپنے آپ کو ظاہر کر دے گا کہ اس طرح کبھی اپنے وجود کو ظاہر نہیں کیا ہو گا۔اور ( خدا ) کی راہ میں ) سبقت لے جانے والے یوں دکھائی دیں گے جیسے میدان میں آگے بڑھا ہوا گھوڑا۔اور گنہگا را پنی کھلی کھلی گمراہی میں نظر آئیں گے اور اُس دن منکروں پر واضح ہو جائے گا کہ وہ در حقیقت غضب الہی کے مورد تھے اور اندھے تھے۔اور جو اس دنیا میں اندھا ہوگا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔لیکن اس دنیا کی نابینائی منفی ہے اور جزا سزا کے دن وہ ظاہر ہو جائے گی۔پس جن لوگوں نے انکار کیا اور ہمارے رسول کی ہدایت اور ہماری کتاب ( قرآن کریم ) کے نور کی پیروی نہ کی اور اپنے باطل معبودوں کی اتباع کرتے رہے وہ ضرور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دیکھیں گے اور جہنم کے جوش اور اس کی خوفناک آواز کو سنیں گے اور اپنی گمراہی اور کج روی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔اپنے آپ کو لنگڑے کانے جیسے پائیں گے اور جہنم میں داخل ہوں گے جہاں وہ لمبا عرصہ رہیں گے اور ان کا کوئی شفیع نہیں ہوگا۔اس آیت میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ (خدا کا اسم ملِكِ يَوْمِ الدِّين دو پہلوؤں والا ہے۔وہ جسے چاہے گمراہ ٹھہراتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔پس تم دعا کرو کہ وہ ہدایت یافتہ بنادے“۔کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 118-119 ترجمه از عربی عبارت تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 1 صفحہ 116-117 حاشیہ) پس جہاں اپنے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات کا صحیح فہم و ادراک عطا فرمائے، اپنی مالکیت کی حقیقت کی سمجھ عطا فرماتے ہوئے ہمارے سے ایسے اعمال کروائے جو ہمیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے وارث بنا ئیں۔اس کی سزا سے ہم ہمیشہ بچے رہنے والے ہوں اور وہ اپنی ہدایت کی راہیں ہمیشہ ہمیں دکھا تا ر ہے ، وہاں مسلم امہ کے لئے بھی بالخصوص دعا کریں کہ وہ اپنے مالک حقیقی کی منشاء کو سمجھنے والے ہوں اور زمانے کے حالات کے مطابق اپنی مالکیت کے تحت جو اُس نے یہ امام بھیجا ہے۔(اللہ جب حالات خراب ہوں تو نبی مبعوث فرماتا ہے یا مصلح بھیجتا ہے۔یہ بھی اپنی مالکیت کی صفت کے تحت ہی بھیجتا ہے جیسا کہ میں نے پیچھے بتایا تھا)۔اس کو یہ لوگ ماننے والے ہوں اور اس کے مددگار ہو کر دنیا میں اسلام کے غلبہ کی کوشش کریں اور اس روح کے ساتھ اس کے حکموں پر چلنے والے ہوں جس کی وہ توقع رکھتا ہے۔اور بالعموم دنیا کے لئے بھی دعا کریں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے خدا کو پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے جو مِلِكِ يَوْمِ الدِّین ہے تا کہ اس کی پکڑ سے بچ سکیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: آج بھی ایک افسوسناک خبر ہے محترمہ امتہ الحفیظ صاحبہ جوڈاکٹر عبدالسلام صاحب مرحوم کی بیوہ تھیں وہ امریکہ