خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 1
خطبات مسرور جلد پنجم 1 1 خطبہ جمعہ 05 / جنوری 2007 ء فرمودہ مورخہ 05/جنوری 2007ء ( 05 صلح 1386 ہجری شمسی) بمقام ننسپیٹ (ہالینڈ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بالله۔(آل عمران : 111) یہاں ہالینڈ میں بھی دنیا کے اکثر مغربی ممالک کی طرح تین قسم کے احمدی آباد ہیں، ایک وہ جو پاکستان - آئے ہیں یا شاید ایک آدھ ہندوستان سے بھی آئے ہوں، یہاں آکر آباد ہوئے اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن میں تین چار نسلوں سے احمدیت چل رہی ہے ، ان کے آباؤ اجداد نے ، باپ دادا نے احمدیت قبول کی۔دوسرے چند ایک وہ لوگ ہیں جو بعض مسلمان ممالک کے ہیں، جس میں عرب دنیا کے لوگ بھی ہیں، جنہوں نے حق کو پہچانا ، اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھ کر آپ کے مسیح و مہدی کو آپ کا سلام پہنچائیں اور اس کی جماعت میں شامل ہوں۔اور تیسری قسم ایسے لوگوں کی ہے جو یہاں کے اصلی باشندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نور فراست عطا فرمایا اور انہیں مسیح محمدی کے ماننے کی توفیق ہوئی اور یہ لوگ بھی چند ایک ہیں جو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔یہ لوگ وہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رویا کی تعبیر بنتے ہوئے ان سفید پرندوں میں شامل ہوئے جنہیں آپ نے پکڑا تھا۔یہ تو ابھی ابتدا ہے، ابھی تو انشاء اللہ تعالی ہم نے وہ نظارے دیکھنے ہیں جب یہ پرندے ڈاروں کی شکل میں غولوں کے غول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آغوش میں آنے ہیں۔پس احمدیوں کی جو پہلی قسم میں نے بتائی ہے جس میں پاکستانی احمدی بھی ہیں یا شاید ہندوستانی بھی ہوں، ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ان پرندوں کو پکڑنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہاتھ بٹانے اور پھر ان کو اپنے ساتھ سدھا لینے کے لئے بھر پور مدد کریں۔ورنہ پرانے احمدی ہونے کے دعوے آپ کی صحابی کی نسل ہونے کی باتیں، صرف باتیں رہ جائیں گی ، اُن صحابہ یا آپ کے بزرگوں کے جو نیک اعمال تھے ، اُن کا اجر تو اُن کو ملے گا ، آپ کو تو اپنے اعمال کا اجر ملنا ہے۔اگر نیکیوں پر چلتے ہوئے آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن میں آپ کا ہاتھ بٹائیں گے تو آپ اپنے بہترین اجر حاصل کرنے کے ساتھ ان بزرگوں کے درجات بلند کرنے میں بھی مددگار ہورہے ہوں گے کہ انہوں نے ایک نیک نسل چھوڑی اور آپ پھر اس نیکی کی وجہ سے ان بزرگوں کے لئے دعائیں بھی کر رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے جنہوں نے ہمیں ان نیکیوں پر قائم کیا۔آپ کی نیکیاں ان بزرگوں کے لئے سکون کا باعث بن رہی ہوں گی۔پس یہ ایک بہت بڑا نیکی کا موقع ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے، اس کو ضائع