خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 108
خطبات مسر در جلد پنجم 108 خطبہ جمعہ 16 / مارچ 2007ء تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پر ہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 23 پس دنیا میں تو کوئی ایسی ہستی نہیں جس کے لئے انسان تمام حقوق چھوڑتا ہے۔بادشاہوں کے مقابل پر بھی رعایا کے کچھ حقوق ہوتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے مقابلے پر کوئی حق نہیں ہے۔یعنی حق کا مطالبہ کوئی نہیں کر سکتا۔ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے احکامات پر عمل کرنے والوں کے لئے بعض حقوق خود اپنے پر فرض کر لئے ہیں۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اگر بندہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل کرے، اس کی عبادت کرے، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے تو اللہ نے پھر اپنے پر یہ فرض کر لیا ہے کہ اس کو اپنی جنت میں جگہ دے۔پس حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا، اس کی عبادت کرنا، اس کا شکر گزار ہونا، اس کا خوف رکھنا، صرف اس لئے نہیں کہ اگلے جہان میں ہمارے ساتھ کیا سلوک ہونا ہے، وہیں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ جزا سزا کا سلوک کرتا ہے۔نیک کام کرنے والوں کو نوازتا ہے۔برائیاں کرنے والوں کو سزا دیتا ہے۔مختلف طریقوں سے اپنے بندوں کے امتحان لیتا ہے اور اس میں پورا اتر نے والوں کو اس کی بہترین جزا دیتا ہے اور جو اس کی مالکیت کی بجائے اپنی مالکیت جتاتے اور اس کے ناشکر گزار بندے بنتے ہیں تو بعض وقت وہ اس دنیا میں ہی ان کو سزا بھی دیتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل کے تین آدمی تھے۔ایک کوڑھی ، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش کے لئے ان کے پاس انسانی شکل میں ایک فرشتہ بھیجا۔پہلے وہ کوڑھی کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے کیا چیز پسند ہے؟ اس نے جواب دیا خوبصورت رنگ، خوبصورت جلد ، میری وہ بد صورتی جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے گھن آتی ہے۔اس فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اس کی بیماری جاتی رہی۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے تھے اور خوبصورت رنگ اس کو مل گیا۔پھر فرشتے نے کہا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے اونٹ یا گائے کا نام لیا۔اسے اعلیٰ درجہ کی دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں دے دی گئیں۔فرشتے نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تیرے مال میں برکت دے۔پھر وہ گنجے کے پاس گیا اور اس سے کہا کون سی چیز تجھے پسند ہے؟ اس نے جواب دیا خوبصورت بال اور گنجے پن کی بیماری چلی جائے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے گھن آتی ہے۔فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور خوبصورت بال اس کے اُگ آئے۔پھر فرشتے نے کہا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے کہا گائیں۔فرشتے نے اس کو گا بھن گائیں دے دیں یعنی ایسی گائیں جو بچے دینے والی تھیں اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دے۔پھر وہ اندھے کے پاس گیا اور کہا تجھے کون سی چیز پسند ہے؟ اس نے کہا میں چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ میری نظر کو لوٹا دے تا کہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نظر واپس دے دی۔پھر فرشتے