خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 107
107 خطبہ جمعہ 16 / مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ان ملکوں میں بعض برائیاں ایسی ہیں جن سے بچنے کے لئے خاص طور پر نو جوانوں کو بہت کوشش کرنی چاہئے۔شروع شروع میں بعض چھوٹی چھوٹی برائیاں ہوتی ہیں پھر بڑی برائیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور پھر اگر ان حرکتوں کے بدنتائج اس دنیا میں بھی ظاہر ہو جائیں تو یہ جہاں ایسے لوگوں کے لئے سزا ہے وہاں ان کے ماں باپ عزیزوں رشتہ داروں خاندان کو بھی معاشرے میں شرمسار کرنے والے ہوتے ہیں۔ان کو بھی معاشرے کی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پس ان چیزوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں قائم کرتے ہوئے ، اس بات کا احساس کرتے ہوئے کہ وہ گناہوں سے بچانے والا بھی ہے اور گناہوں کو معاف کرنے والا بھی ہے، نیکیوں کی توفیق دینے والا بھی ہے اور نیکیوں کا بہترین اجر دینے والا بھی ہے، اس کے سامنے جھکے رہنا چاہئے ، اس سے مدد مانگنی چاہئے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلهُ إِلَّا هُوَ۔فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (الزمر: 7) یہ ہے اللہ تمہارا ارب اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پس تم کہاں الٹے پھرائے جاتے ہو۔توجہ کر واپنے خدا کی طرف کہ اُسی کی طرف جانا ہے۔پس اپنے پیدائش کے مقصد کو سمجھ کر اس کے بتائے ہوئے احکامات کی نافرمانی نہ کرو۔ہر ایک عقلمند انسان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَّلِي وَّلَا نَصِيرٍ (البقرة: 108) کیا تو نہیں جانتا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی آسمان اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ کو چھوڑ کر تمہارے لئے کوئی سر پرست اور مددگار نہیں ہے۔پس آسمان اور زمین کی بادشاہت اسی واحد اور لاشریک خدا کی ہے تو یہ بات بھی اُسی کو زیب دیتی ہے کہ اس کی عبادت بھی کی جائے اور اس کے احکامات پر عمل بھی کیا جائے۔کیونکہ اس کے علاوہ کوئی نہیں جو تمہارا بہترین دوست اور مددگار ہو۔جو گل عالم کا، زمین و آسمان کا مالک ہے، بادشاہ بھی ہے جب وہ کسی کا دوست اور مددگار ہو جائے تو پھر اس کو اور کیا چاہئے۔کیا تم اس کے مقابلے میں جو مالک ارض و سماء ہے دنیا کی عارضی چیزیں اور ادنی خواہشات اور شیطان کا غلط کاموں کے لئے بہکانا اور اس کی جھولی میں گرنا اختیار کرو گے۔پس اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے ہمیں سمجھاتا ہے کہ میں جو مالک گل ہوں مجھے چھوڑ کر تم کن باتوں میں پڑنے کی کوشش کر رہے ہو۔آج دنیا کے تمام فساداسی اہم نکتے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہیں۔آج اگر دنیا اس حقیقت کو سمجھ لے کہ سوائے ایک خدا کے جو ملِكِ يَوْمِ الدِّين ہے مکمل مالکیت اسی کی ہے ، وہی مالک حقیقی ہے، اس کی زمین و آسمان پر بادشاہت قائم ہے تو دنیا کے یہ تمام فتنے اور فساد ختم ہو جائیں۔پس اگر انسان خدا تعالیٰ کی حقیقی مالکیت کو اپنے اوپر تسلیم کرلے تو پھر اس کا خوف بھی پیدا ہو گا۔پھر یہ احساس ہوگا کہ ایک خدا ہے جس کی ہمیں عبادت بھی کرنی ہے، جس کے احکامات پر عمل بھی کرنا ہے کیونکہ جزا سزا کا ہمارے ساتھ سلوک ہونا ہے تو پھر ہی نیک اعمال بجالانے کی طرف توجہ بھی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "یادر ہے کہ مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر