خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 106

106 خطبہ جمعہ 16 / مارچ 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم زانی ہیں ان کو خدا کا اور روز جزا کا خیال آنا تو درکنار، اسی دنیا میں ہی اپنی صحت ،تندرستی، عافیت اور اعلی قومی کھو بیٹھتے ہیں اور پھر بڑی حسرت اور مایوسی سے ان کو زندگی کے دن پورے کرنے پڑتے ہیں۔سل ، دق ، سکتہ اور رعشہ اور اور خطرناک امراض ان کے شامل حال ہو کر مرنے سے پہلے ہی مر رہتے اور آخر کار بے وقت اور قبل از وقت موت کا لقمہ بن جاتے ہیں۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه 641-642 جدید ایڈیشن ) اس زمانے میں دیکھیں کتنے ہیں جو ان غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے سزا بھگت رہے ہوتے ہیں۔بعض تو ان میں سے ایسے ہوتے ہیں، کوئی نہ کوئی ان میں نیکی کی رگ ہوتی ہے، جن کو خیال آ جاتا ہے، اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور اس دنیا کی سزا کے نمونے سے ہی عبرت حاصل کرتے ہیں اور تو بہ کرتے ہیں تو اخروی سزا سے بچ جاتے ہیں۔لیکن جو لوگ برائیوں پر اصرار کرنے والے ہیں انہیں ان برائیوں کا اصرار لے ڈوبتا ہے۔اپنی دنیا بھی خراب کرتے ہیں اور آخرت بھی خراب کرتے ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا شرابی ہیں ، شراب کی وجہ سے اپنی طاقتیں ضائع کر دیتے ہیں، دماغی صلاحیتیں کھو دیتے ہیں۔یہ شراب پینے والے جب شراب پی رہے ہوتے ہیں ان کے دماغ کے ہزاروں لاکھوں خلیے اور سیل (Cell) ہیں جو ساتھ ساتھ ضائع ہورہے ہوتے ہیں اور یہ سب اس لئے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والے ہیں۔پھر اس زمانے میں جو ایڈز (Aids) کی بیماری ہے، یہ بھی بہت بڑی تباہی پھیلا رہی ہے۔جب انسان اپنی پیدائش کے اصل مقصد کو بھول کر جانوروں کی طرح صرف نفسانی خواہشات کا غلام ہو جائے تو پھر وہ جو مالک ہے جس نے انسان کے اور حیوان کے درمیان فرق کے لئے حدود قائم کی ہوئی ہیں وہ اپنی صفت مالکیت کے تحت اس دنیا میں بھی سزا دے دیتا ہے اور آخرت میں ان حدود کو توڑنے کی وجہ سے کیا سلوک ہونا ہے وہ بہتر جانتا ہے۔پس انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اس کو یہ سوچنا چاہئے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے قانون پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے وہ کس قدر تباہی کی طرف جا رہا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے یہاں تو آتا ہی ہے آئندہ جہان میں بھی آسکتا ہے۔اس لئے صرف یہ سوچ کر کہ اگلا جہان پتہ نہیں ہے بھی کہ نہیں اور اس میں کوئی سزاملنی بھی ہے کہ نہیں ، غلاظتوں اور گناہوں میں پڑ جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو پھر غلط کاریوں اور گناہوں کی وجہ سے اس دنیا میں بھی سزا ملتی ہے۔لیکن اگر احساس ہو کہ سزا ہے تو پھر آدمی اصلاح کی کوشش بھی کرتا ہے۔بعض لوگوں کی تو یہ حس ہی ختم ہو جاتی ہے۔جانور پن پوری طرح حاوی ہو جاتا ہے اور باوجود اس سزا سے گزرنے کے یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ہم کن غلاظتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔پس ہر عقلمند انسان کو اپنے ماحول کے نمونوں کو دیکھ کر عبرت پکڑنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جو جزا سزا کے دن کا مالک ہے انسان کی غلطیوں کی وجہ سے بعض کو اس دنیا میں بھی سزا کے جو نمونے دکھاتا ہے تو یہ بات ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب کرنے والی اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے۔