خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 105

خطبات مسرور جلد پنجم 105 (11) خطبہ جمعہ 16 مارچ 2007ء فرموده مورخه 16 / مارچ 2007 ء بمطابق 16 رامان 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔وہ مالک گل ہے، تمام کائنات اس کے اشارے پر چل رہی ہے۔وہ اس دنیا میں بھی تمہارا مالک ہے اور مرنے کے بعد بھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے حکموں پر عمل کرو تا کہ اس دنیا میں بھی میری خوشنودی حاصل کر سکو اور اگلے جہان میں بھی جب تمہارے متعلق آخری جزا سزا کا فیصلہ ہوگا، میری رضا کے حصول کے لئے کئے گئے اعمال کی وجہ سے میری جنتوں کے وارث ٹھہر سکو۔پس یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ جیسا کہ اکثر اللہ تعالیٰ کی ہستی کو نہ ماننے والے سمجھتے ہیں کہ اگلے جہان میں تو پتہ نہیں کیا ہوتا ہے یا کچھ ہونا بھی ہے کہ نہیں، سوال جواب بھی ہونے ہیں کہ نہیں، جزا سزا بھی ملنی ہے کہ نہیں، کچھ ہے بھی کہ نہیں، اس لئے دنیا میں جو دل چاہتا ہے کئے جاؤ۔اگر یہ لوگ غور کریں تو دیکھیں گے کہ اس دنیا میں بھی ہزاروں آفات ایسی ہیں جن سے ہر روز لوگ گزرتے ہیں اور اس دنیا میں بھی اس کی وجہ سے جزا سزا حاصل کرتے ہیں۔یہی نہیں، یہ چیزیں یہ بتاتی ہیں کہ جب اس دنیا میں جزا سزا ہے تو برائیوں میں یا ان اعمال کے کرنے کی وجہ سے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور ان پر اصرار کرنے کی وجہ سے اگلے جہان میں بھی اللہ تعالٰی عذاب دے سکتا ہے اور وہ اس کے سزاوار ٹھہر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ملِكِ يَوْمِ الدِّين (الفاتحة: 4) خدا مالک ہے جزا سزا کے دن کا ، ایک رنگ میں اسی دنیا میں بھی جزا سزا ملتی ہے۔ہم روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ چور چوری کرتا ہے۔ایک روز نہ پکڑا جاوے گا ، دوروز نہ پکڑا جاوے گا ، آخر ایک روز پکڑا جائے گا اور زندان میں جائے گا“۔یعنی قید میں ڈالا جائے گا اور اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔یہی حال زانی ، شراب خور اور طرح طرح کے فسق و فجور میں بے قید زندگی بسر کرنے والوں کا ہے کہ ایک خاص وقت تک خدا کی شان ستاری ان کی پردہ پوشی کرتی ہے۔آخر وہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور دکھوں میں مبتلا ہو کر ان کی زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور یہ اس اُخروی دوزخ کی سزا کا نمونہ ہے۔اسی طرح سے جو لوگ سرگرمی سے نیکی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور فرمانبرداری ان کی زندگی کا اعلیٰ فرض ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ ان کی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا اور مقررہ وقت پر ان کی نیکی بھی پھل لاتی اور بار آور ہو کر دنیا میں ہی ان کے واسطے ایک نمونہ کے طور پر مثالی جنت حاصل کر دیتی ہے۔غرض جتنے بھی بدیوں کا ارتکاب کرنے والے فاسق ، فاجر ، شراب خور اور