خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 104
104 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم تقریباً 27 سال انہوں نے جامعہ میں پڑھایا۔ہوٹل میں لمبا عرصہ سپر نٹنڈنٹ رہے، جو ہوٹل میں رہنے والے ہیں وہ جانتے ہوں گے۔بڑی نرم طبیعت کے ہنس مکھ انسان تھے اور 21 سال سے دار القضاء میں بھی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔وفات سے ایک دن پہلے بھی ایک کیس کے سلسلہ میں گاڑی منگوا کر آئے۔ان سے چلا نہیں جا رہا تھا اور دو چھڑیوں کے سہارے چلتے ہوئے دفتر میں آئے۔دل کی تکلیف بھی تھی اور کمزوری بھی تھی اور اپنا قضاء کا پورا کیس سنا اور اسے نبٹایا اور ایک دن بعد کی تاریخ بھی مقرر کی۔ان کو وہاں کے ناظم قضاء نے کہا کہ اتنی طبیعت خراب ہے تو آنے کی کیا ضرورت ہے۔انہوں نے کہا دل نہیں مانتا کہ جو جماعت کے کام میرے سپرد ہوئے ہیں ان میں کسی بھی طرح انکار کروں۔اس لئے میرے سپر د جو کیس ہیں وہ تو میں نبٹاؤں گا۔بہر حال اسی رات یا اگلے دن صبح ان کی وفات ہوگئی۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے ، درجات بلند فرمائے۔ان کی اہلیہ، بیوہ، رضیہ منیر صاحبہ ان کا نام ہے اور ان کے علاوہ ان کی ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں۔ابھی نمازوں کے بعد میں ان کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔( مطبوعه الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 30 مارچ تا6 اپریل 2007 ء ص 5 تا 7 )