خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 99
خطبات مسرور جلد پنجم 99 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء کا مالک ہے اور جس طرح چاہے اپنے ارادے کو نافذ کرنے والا ہے۔کوئی کام اس کے لئے محال اور ناممکن نہیں۔اور اگر یہ سوال ہو کہ اللہ تعالیٰ يَومُ الدِّين سمیت ہر چیز کا مالک ہے تو پھر یہاں صرف يَوْمُ الدِّین ہی کا بطور خاص کیوں ذکر کیا گیا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو لوگ فرعون اور نمرو قسم کے بادشاہ کی مخالفت کر لیتے ہیں، بڑے بڑے بادشاہ طاقتور ہیں، زور آور ہیں ان کے خلاف بھی بول لیتے ہیں۔آج بھی دیکھیں طاقتوروں کے خلاف کئی غریب لوگ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس کی بادشاہت کے بارے میں جھگڑ لیتے ہیں لیکن اس روز یعنی جزا سزا کے دن اللہ تعالیٰ سے کوئی شخص اس کی بادشاہت سے متعلق جھگڑ نہ سکے گا۔جیسا کہ فرمایا لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ یعنی آج کے دن بادشاہت کس کی ہے؟ تو تمام مخلوقات جواب دیں گی لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ، اسی بنا پر مَالِكِ يَوْمِ الدِّين فرمایا۔یعنی اس دن کے سوا کوئی مالک ہوگا نہ فیصلہ کرنے والا ہوگا اور نہ کوئی جزا سزا دینے کا مجاز ہوگا۔پاک ہے اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت الْمَلِكُ بھی آتی ہے اور الْمَالِكُ بھی، اَلْمَلِكُ اللہ تعالیٰ کی ذات کی صفت ہے اور الْمَالِكُ اس کے فعل کی صفت ہے۔(تفسير الْجَامِعُ لِاحْكامِ الْقُرْآن از ابو عَبْدُ الله مُحَمَّد بن اَحْمَد اَلْقُرْطَبِي زير آيت مالك يوم الدين) نْ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس پر تفصیلی بحث فرمائی ہوئی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ مختلف لغات سے جو نتیجہ اخذ فرمایا اس سے وضاحت فرمائی کہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کے کیا معنی بنتے ہیں۔اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّين سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ آخرت کا مالک ہے دنیا کا مالک نہیں۔بلکہ مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے قانون قدرت اور اپنی دوسری صفات کے تحت انسان کے لئے بعض باتیں مقدر کی ہوئی ہیں۔ڈھیل دی ہوئی ہے یا چھوٹ دی ہوئی ہے۔اس کی وجہ سے اس دنیا میں فوری جزا سزا نہیں ہے لیکن اس دن جو جزا سزا کا دن ہے اس دن کوئی مفر نہیں ہوگا۔بلکہ تمام جزا سزا کا اللہ تعالیٰ خود فیصلہ فرمائے گا، کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔کوئی معافی اور تو بہ اس وقت کام نہیں آئے گی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا أَدْراكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ يَوْمَ لَا تَمُلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأمُرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ (الانفطار : 18-20) تجھے کیا پتہ کہ یوم الدین کیا ہے، پھر ہم کہتے ہیں کہ تجھے کیا پتہ جزا سزا کا دن کیا ہے ؟ يَوم الدین وہ ہے کہ جس دن کوئی شخص کسی دوسرے کے کام نہ آسکے گا۔اور صرف خدا تعالیٰ کا حکم جاری ہو گا۔یہ خوف کا مقام ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے لئے ، مومنوں کے لئے ، جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہیں ، اعمال صالحہ بجالانے والے ہیں، یہ خوشخبری بھی اس میں ہے کہ اگر خالص ہو کر اس کے احکامات پر عمل کر رہے