خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 92
92 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم حضرت حکیم مفتی فضل الرحمن صاحب بیان فرماتے ہیں کہ 1907ء میں میراد وسرالڑ کا عبدالحفیظ پیدا ہوا۔توان دنوں میں عورتوں میں بچوں کی پیدائش کے بعد شیخ کی بیماری بہت زیادہ پھیلی ہوئی تھی تو میری بیوی کو بھی بیماری ہوئی۔کہتے ہیں میں دوڑا دوڑا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے ایک دوائی دی۔میں نے کھلائی۔کوئی فرق نہیں پڑا۔دوبارہ آکر عرض کیا آپ نے دوسری دوائی دی۔میں نے جا کر کھلائی اس سے بھی فرق نہیں پڑا۔تیسری دفعہ بھی اسی طرح ہوا تو آپ نے فرمایا جو دنیاوی حیلے تھے وہ تو ختم ہو گئے۔اب دعا کا ہتھیار باقی رہ گیا ہے۔تم جاؤ اور میں اس کے لئے دعا کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک اپنا سر نہیں اٹھاؤں گا، اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا چلا جاؤں گا جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتی۔وہ کہتے ہیں کہ میں تو اس کے بعد آ کر آرام سے سو گیا کہ اب مجھے کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ٹھیکیدار نے خود ٹھیکہ لے لیا ہے۔کہتے ہیں کہ صبح برتنوں کی آواز سے میری آنکھ کلی تو دیکھا تو میری بیوی صحت یاب ہو کر آرام سے اپنے کام میں مصروف تھی۔رض (ماخوذ از سیرت احمد از قدرت الله سنوری صاحب صفحه 204 تا (206 لوگوں سے ہمدردی اور ان کے لئے رحمت کے جذبات کا ایک اور واقعہ بھی اس طرح ہے۔حضرت منشی زین العابدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میری شادی ہوئی ، اولا د نہیں ہوتی تھی۔اولا د ہوتی تھی اور وقت سے پہلے فوت ہو جاتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ پوچھا تو میں نے بتایا کہ یہ وجہ ہے۔آپ نے کہا کہ حضرت خلیفہ اول سے اس کا علاج کروالو۔میں نے کہا جی میں نے اُن سے علاج نہیں کرانا، بہت مہنگا علاج ہے۔آپ نے فرمایا کہ کیا مجھ سے علاج کرواؤ گے؟ میں نے عرض کی نہیں ، علاج کی ضرورت نہیں۔دعا کرواؤں گا۔دیکھیں آپ کا جذ بہ رحم ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ظہر کی نماز کے بعد کہا کہ اچھا اگر یہی ہے تو پھر آؤ دعا کرتے ہیں۔دروازے کے باہر ہی کھڑے ہو گئے اور آپ نے دعا کرنی شروع کی اور وہ کہتے ہیں کہ عصر کی اذان تک رو رو کر دعا کرتے رہے اور آنسو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی داڑھی مبارک سے ٹیک کر کرتے پر گر رہے تھے۔کہتے ہیں کہ میں تو تھک کر دیوار کے ساتھ لگ گیا۔اور سوچتا رہا کہ میں نے کیوں تکلیف دی۔نہ بھی اولاد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن مجھے یہ تکلیف ہرگز نہیں دینی چاہئے تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعالمی کرتے چلے گئے یہاں تک کہ جب آمین کہہ کر دعاختم کروائی تو فرمایا کہ تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے اب تمہاری بیوی کی یہ جو بھی بیماری ہے ختم ہوگئی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ پہلے جو حمل ہو گا اس میں بیٹا پیدا ہو گا۔چنانچہ وہ ہوا اور بچے بھی پیدا ہوئے۔تو لوگوں کی ہمدردی کے جذبہ سے آپ اپنی تکلیف کا خیال نہیں کیا کرتے تھے۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 13 صفحه 94-95