خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 82
خطبات مسرور جلد پنجم 82 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریم کی عزت کے لئے جان دیتے ہیں اور وہ اس بے عزتی سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور ان کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ ان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت تو ہین سے اس کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے ان کو یاد کرتے ہیں۔آپ یا درکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں۔کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے ہوتے ہیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے باز نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بد زبانی میں ہی فتح ہے۔مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 385 ) انشاء اللہ وہ فتح تو آنی ہے۔ہر احمدی یہ پیغام ایسے لوگوں تک بھی اور ملک کی دوسری آبادی تک بھی پہنچا دے کہ یہ لوگ جو اس قسم کی باتیں کرنے والے ہیں نہ تمہارے خیر خواہ ہیں نہ ملک کے خیر خواہ ہیں۔نہ دنیا میں امن وسلامتی کے چاہنے والے ہیں بلکہ فتنہ پرداز لوگ ہیں بلکہ ان کا مقصد صرف اور صرف دنیا میں فتنہ اور فساد پیدا کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔( مطبوعه الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 16 تا22 مارچ 2007 ء ص 5 تا 8 )