خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 77

خطبات مسرور جلد پنجم 77 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء آج آئے دن مغرب کے کسی نہ کسی ملک میں اسلام اور آنحضرت ﷺ کے خلاف مختلف طریقوں سے غلط پروپیگنڈا کر کے آپ کے مقام کو گرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں ہالینڈ کے ایک ممبر پارلیمنٹ نے ایک ہرزہ سرائی کی جس میں آنحضرت ﷺ اور اسلامی تعلیم اور قرآن کریم کے بارے میں انتہائی بیہودہ اور ظالمانہ الفاظ کا استعمال کیا۔جہاں بھی اسلام اور بانی اسلام ﷺ کے متعلق اس قسم کی بیہودہ گوئی کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ، اس ملک میں ، جماعت احمد یہ جواب دیتی ہے۔ہالینڈ والوں کو بھی میں نے کہا تھا کہ اخباروں میں بھی لکھیں اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کا تصور ان کے ذہنوں میں پیدا کریں تا کہ عوام کے ذہنوں سے اس اثر کو زائل کیا جائے۔در اصل اسلام ہی ہے جو اس زمانے میں مذہب اور خدا کا عقلی اور حقیقی تصور پیش کرتا ہے۔اس طرح اگر تو یہ لوگ جو اسلام اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں اس قسم کی لغو اور بیہودہ باتیں لاعلمی یا کم علمی کی وجہ سے کرتے ہیں تو ان کو بتائیں کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کا اسوہ زندگی کے ہر شعبے میں کیا ہے۔مخلوق خدا سے ہمدردی کس طرح آپ کے پاک دل میں بھری ہوئی ہے تاکہ ان کے ذہن صاف ہوں۔لیکن اگر ان کے دل صرف بغض اور کینے سے بھرے ہوئے ہیں اور کچھ سننے کے لئے تیار نہیں تو پھر اتمام حجت ہو جائے گا۔بہر حال آج یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو ہر احمدی نے انجام دینا ہے۔ہالینڈ کے ممبر آف پارلیمنٹ جس کا میں نے ذکر کیا، اس کا جہاں تک تعلق ہے، لگتا ہے اس کے دل میں تو اسلام اور آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم اور مسلمانوں کے لئے بغض اور کینہ انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔جس کا اظہار اس نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ان صاحب کا نام ہے غیرت ولڈر ز ( Geert Wilders)۔کیتھولک گھر میں یہ پیدا ہوا لیکن رپورٹ کے مطابق مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ان لوگوں کو بھی جب اپنے مذہب میں سکون نہیں ملتا اور سمجھ نہیں آتی۔خدا تک تو پہنچ نہیں سکتے تو پھر اسلام کو بھی برا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں، اس پر الزام تراشی شروع ہو جاتی ہے۔بہر حال یہ صاحب کافی پرانے اسلامی تعلیم پر اعتراض کرنے والے ہیں۔برقع کے خلاف بھی جو سب سے پہلے ہالینڈ میں مسئلہ اٹھا تھا، یہی اس میں پیش پیش تھا۔بظاہر مذہب سے لاتعلق ہے لیکن اسلام کے خلاف بغض کی وجہ سے عیسائیت اور یہودیت کو بقول اس کے اسلام سے بہتر سمجھتا ہے۔سمجھے لیکن اگر عقل رکھتا ہے تو اس زمانے میں جب مغربی ممالک کو تہذیب یافتہ ہونے کا دعویٰ ہے اور یہ صاحب اپنے آپ کو پڑھا لکھا بھی کہتے ہیں، ہمبر آف پارلیمنٹ بھی ہے، تو پھر دوسرے مذاہب کے بارے میں بیہودہ گوئی کرنے کا ان لوگوں کو حق نہیں پہنچتا۔چند افراد کے ذاتی فعل سے اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ قرآن اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کرے کہ کوئی بھی عقلمند اور پڑھا لکھا انسان نہیں کر سکتا۔مثلاً آنحضرت ﷺ کے بارے میں کہتا ہے کہ اگر وہ آج ہالینڈ