خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 74
خطبات مسرور جلد پنجم 74 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: ”اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔حقيقة الوحى۔روحانی خزائن جلد (22 صفحه (119 پس آپ کی خدا تعالیٰ سے یہ انتہائی درجہ کی محبت تھی جس کی وجہ سے آپ نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے بھی محبت کی مخلوق کی تکلیف آپ کو گوارا نہ تھی۔اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق سے اپنی صفات رحمانیت اور رحیمیت کے تحت سلوک فرماتا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہ ذات جس کا اوڑھنا بچھونا، جس کی ہر حرکت وسکون اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا تھی ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے وہی سلوک روا نہ رکھتی جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کرتا ہے۔آپ کے اندر خدا تعالیٰ کی مخلوق کے لئے جو رحیمیت ، رحمانیت کے جذبات تھے، اس جذبے کے تحت جو محبت موجزن تھی ، اس کی شدت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اُسے ان الفاظ میں محفوظ فرما لیا جس کی میں نے تلاوت کی ہے، جس کا ترجمہ ہے کہ یقینا تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آیا ہے، اسے بہت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو اور وہ تم پر بھلائی چاہتے ہوئے حریص رہتا ہے ، مومنوں کے لئے بے حد مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس یہ ہے ہمارے پیارے نبی ﷺ کا اسوہ اور آپ کے بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے جذبات۔وہ پیارا رسول ﷺ انتہائی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے جب تم تکلیف اٹھاتے ہو یا اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی نہ کر کے اٹھاؤ گے۔اس آیت میں کافروں اور مومنوں دونوں کے لئے جذبات کا اظہار ہے۔آپ کی زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے کہ کیا کیا تکلیفیں تھیں جو دشمن نے آپ کو نہ دیں، آپ کے ماننے والوں کو نہ دیں۔عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر ان کی ٹانگیں باندھ کر ان کو چیرا گیا۔خود آپ کو انتہائی تکلیفیں پہنچائی گئیں۔اڑھائی سال تک آپ کے ماننے والوں کے ساتھ ایک گھائی میں محصور رکھا گیا لیکن آپ پھر بھی ان لوگوں کی بھلائی کی خواہش کرتے تھے۔دعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے، انہیں سیدھے راستے پر چلائے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکیں۔اپنا دفاع کیا تو صرف اس حد تک کہ وہ دفاع سے آگے نہ بڑھے، بدلہ یا دشمنی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، اس کا تو شائبہ تک بھی آپ کے دل میں نہیں تھا۔اور ان کو بچانے کے لئے اس حد تک بے چین تھے کہ اپنی جان ہلکان کر رہے تھے جیسا کہ قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا کہ ان کافروں کو ، مشرکین کو ، اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنا لینے والے خیالات رکھنے والوں کو، خبر دار کر کہ اگر تم لوگ باز نہ آئے تو ایک عذاب تمہارے لئے منہ کھولے کھڑا ہے۔تم لوگ اس کی پکڑ کے نیچے آنے والے ہو۔تو اس رحمۃ للعالمین کی حالت انتہائی کرب اور تکلیف کی حالت ہو جاتی ہے، بے چین