خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 524 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 524

524 خطبہ جمعہ 28 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اور کسی نے ہمیں نہیں روکا کہ ہم اپنی آیات بھیجیں سوائے اس کے کہ پہلوں نے ان کا انکار کر دیا تھا اور ہم نے شمود کو بھی ایک بصیرت افروز نشان کے طور پر اونٹنی عطا کی تھی۔پس وہ اس سے ظلم کے ساتھ پیش آئے اور ہم نشانات نہیں بھیجتے مگر تدریجا ڈرانے کی خاطر۔پس اصل میں یہ آیت اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور ان کی جماعتوں کی سچائی ثابت کرنے کے لئے نشانات بھیجتا ہے اور وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُرْسِلَ بِالایت یعنی کسی بات نے ہمیں نہیں روکا کہ ہم اپنے نشانات بھیجیں، اپنے نبیوں کی تائید میں نشانات اتاریں، معجزات دکھا ئیں۔پس اللہ تعالیٰ جو تمام قوتوں کا سر چشمہ ہے، عزیز اور غالب ہے اس نے جہاں اس میں اُن لوگوں کو ڈرایا کہ ثمود کی اونٹنی کے نشان سے سبق حاصل کرو، وہاں یہ بات آج کے زمانے کے لوگوں کے لئے بھی ہے اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے کہ قرآن کریم کی آیات تمہارے سامنے اس آخری نبی اور عظیم رسول ﷺ نے پیش کی تھیں۔اس لئے کہ تم جو پڑھنے والے ہو سبق حاصل کرتے رہو۔یہ نہ سمجھو کہ پرانے لوگوں کے واقعات قصہ پارینہ بن گئے۔اللہ تعالیٰ معجزات دکھانے اور پکڑنے پر اب بھی قادر ہے اس لئے کبھی غافل نہ ہونا۔اللہ کی یاد کو بھی نہ بھلانا۔اللہ کے نام پر جو یہ اعلان کرے کہ چودھویں صدی کی پیشگوئیوں پر غور کرو اور ان نشانات کو دیکھو جو خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح و مہدی کے لئے اتارے ہیں ان کو سرسری نظر سے نہ لو۔تکذیب اور تکفیر کو انتہا تک پہنچا کر اس کی اہانت کے مرتکب نہ ہو۔اس کے ماننے والوں کے دلوں پر چوٹ لگا کر یہ نہ سمجھو کہ نشانات دکھانے والا خدا اپنی اس طاقت کو کھو بیٹھا ہے یا اُس کا جو یہ فعل ہے ختم ہو گیا ہے۔وَمَا مَنَعَنَا کا اعلان کر کے اللہ تعالیٰ جس امر کی طرف توجہ دلا رہا ہے اس پر غور کرو۔اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرمارہا ہے کہ ہم نشانوں کو بد انجام سے ڈرانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں۔نشانات تو اللہ تعالیٰ آج بھی بہت دکھا رہا ہے لیکن اگر دیکھنے والی آنکھ دیکھے۔غرض اس قسم کے بیشمار واقعات کا قرآن کریم میں پرانے انبیاء کے حوالے سے ذکر ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں۔اُن آیات میں بیان فرمائے ہیں جن میں پہلے انبیاء کی قوموں کا ذکر ہے۔یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی تائید میں معجزات دکھاتا ہے اور کس طرح اپنے معجزات اور نشانات دکھائے اور کس طرح تو میں تباہ ہو ئیں۔تو یہ سب کچھ جو قرآن کریم میں ہمیں بتایا گیا، کیا یہ سب ہمیں کہانیاں سنانے کے لئے ہے؟ کیا یہ اس بات کی ضمانت دینے کے لئے ہے کہ تم جو چاہو کرو، بیشک بے عملی کی زندگی گزارو، بیشک ظالموں میں بڑھتے چلے جاؤ، استہزاء کرو، تعدی کرو تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ؟ اگر یہ سوچ ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بہت بڑا الزام ہے۔پس عقلمند وہی ہے جو ان عبرت کے واقعات سے سبق سیکھتا ہے۔