خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 501

خطبات مسرور جلد پنجم 501 (50) خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2007ء بمطابق 14 فتح 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا آج میں اللہ تعالیٰ کی صفات سے سب سے زیادہ حصہ پانے والے یا اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رنگ میں سب سے زیادہ رنگین ہونے والے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے وہ مظہر حقیقی جن سے زیادہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کا رنگ اپنے اوپر نہیں چڑھا سکتا، یعنی حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کا صفت حكيم کے حوالے سے ذکر کروں گا۔آپ اللہ تعالیٰ کے وہ پیارے ہیں جن کی پیدائش زمین و آسمان کی پیدائش کی وجہ بنی۔جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں۔پس آپ کا مقام اور آپ کے مبارک کلمات کی اہمیت ایسی ہے کہ ایک مومن کی ان پر نظر رہنی چاہئے۔ایک تو وہ تزکیہ نفس کے لئے تعلیم اور حکمت کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آپ کے ذریعہ ہمیں بتا ئیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے گما اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمُ ابْتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَبَ وَالحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّالَمُ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ (البقرة: 152) جیسا کہ ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے تمہارا رسول بھیجا ہے جو تم پر ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور اس کی حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن کا تمہیں پہلے کچھ علم نہ تھا۔دوسرے آپ کے حکم، قول، عمل اور نصیحت جو روز مرہ کے معمولات سے لے کر قومی معاملات تک پھیلی ہوئی ہیں جس میں آپ کی ہر ایک بات ہر عمل، ہر نصیحت، ہر کلمہ ، ہر لفظ جو ہے وہ اپنے اندر حکمت لئے ہوئے ہے۔اور در اصل تو آپ کا قول عمل اور نصائح جو قرآن کریم کی پر حکمت تعلیم ہیں ، اس کی تفسیر ہیں جو آپ کے ہر قول اور فعل میں جھلکتی ہیں۔پس یہ اُسوہ حسنہ جو ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہر قول و فعل کو پُر حکمت بنانے کے لئے بھیجا ہے۔یہی ہے جس کے پیچھے چل کر ہم حکمت و فراست کے حامل بن سکتے ہیں۔يَتْلُوا عَلَيْكُمُ اتنا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ تمہیں پاک کرنے اور تمہارے فائدے کے لئے یہ نبی جو بھی تمہیں سناتا ہے وہ یا ہمارا اصل کلام ہے جو سنایا جاتا ہے یا اس کی وضاحت ہے۔اس لئے اس نبی کی کوئی بات بھی ایسی نہیں ہے جسے تم سمجھو کہ