خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 404
404 خطبه جمعه 05 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم الصلوۃ والسلام کی جماعت کے خلاف آجکل دنیا میں مختلف جگہ پر جو محاذ کھڑا ہے، یہ محاذ کھڑا کرنے کی بجائے مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے۔کچھ غور کریں کہ ایمان کی مضبوطی کی طرف بلانے والا ، ایمانوں کو زندگی بخشنے والا کیا کہہ رہا ہے؟ اس کا دعویٰ کیا ہے؟ خود اپنے بارے میں وہ کیا کہتا ہے؟ اس کا اپنا مقام کیا ہے ؟ آنحضرت ﷺ کو کیا مقام دے رہا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ ” مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کا فرنہیں۔لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ مرا عقیدہ ہے اور لكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔(الاحزاب : (41) پر آنحضرت ﷺ کی نسبت میرا ایمان ہے۔میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قد ر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت ﷺ کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں۔اور جو کوئی ایسا خیال کرتا ہے خود اس کی غلط نہی ہے۔اور جو شخص مجھے اب بھی کافر سمجھتا ہے ور تکفیر سے باز نہیں آتا وہ یقیناً یا در کھے کہ مرنے کے بعد اس کو پوچھا جائے گا۔میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانے کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلّہ میں تو بفضلہ تعالیٰ یہی پلہ بھاری ہوگا“۔(کرامات الصادقين۔روحانی خزائن جلد 7 صفحه 67 | پس بجائے اس کے کہ اس غلام صادق کی تکذیب کر کے اپنے ایمانوں کو کمزور کیا جائے ، اپنے ایمانوں کو جلا بخشنے کے لئے ، اپنے مُردہ دلوں کو زندہ کرنے کے لئے اس زمانے کے امام پر ایمان لائیں جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔اس غلام صادق اور کامل الایمان پر ایمان لائیں جس کی پیشگوئی آج سے چودہ سو سال پہلے خدا اور اس کے رسول ﷺ نے کی تھی۔غور کریں کیا اُن حالات میں کوئی تبدیلی آگئی ہے؟ کیا اُن حالات میں کوئی بہتری پیدا ہوگئی ہے جن حالات کے بارے میں فکر کا اظہار ہر در در کھنے والا مسلمان سو سال پہلے کر رہا تھا اور اس پیشگوئی کے انتظار میں تھا کہ کب وہ شخص مبعوث ہوا اور ہماری اصلاح کرے اور مسلمانوں کو رہنمائی میسر آئے۔اگر غور کریں تو حالات بد سے بدتر ہوئے ہیں اور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔مسلمانوں کی یہ حالت باوجود ظاہراً حکومتیں قائم ہو جانے اور آزادی کے نعروں کے مزید خراب ہی ہورہی ہے۔روحانی طور پر مرتے چلے جارہے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ کہیں کوئی کمی ہے اور کمی یہی ہے کہ جس کو نبی کریم ﷺ نے سلام بھیجا تھا اس کے خلاف آہستہ آہستہ پہلے تو اکا دُکا مولوی مخالفت کرتے تھے، پھر مخالفت کے کچھ گروہ بنے ، اب اسلامی حکومتیں بھی اکٹھی ہو کر منصوبے بنا رہی ہیں۔لیکن جو چراغ اللہ تعالیٰ نے روشن کیا ہے وہ کسی مخالف کی پھونکوں سے بجھایا نہیں جاسکتا۔