خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 402
402 خطبه جمعه 05 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر ایک عمل میں دستور العمل قرار دے گا۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام پر ایمان لانا اور آپ کی بیعت میں آنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل کرنے اور نئی روحانی زندگی حاصل کرنے کے لئے ہے۔پس خوش قسمت ہے ہر وہ شخص جو اس مقصد کے لئے جماعت میں شامل ہوتا ہے اور جماعت میں رہتا ہے۔خوش قسمت ہیں ہم جو اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق پر ایمان لا کر اللہ اور اس کے رسول کی پکار کو سننے والے بنے تا کہ احیاء موٹی کا نظارہ دیکھیں ، اپنے مردہ جسموں کو زندہ ہوتا دیکھیں۔پس ہم پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی مان کر مسیح و مہدی مان کر ہم گویا آنحضرت ﷺ کا درجہ نعوذ باللہ گرانے والے ہیں۔یہ سراسر احمد یوں پر الزام ہے۔آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) آنحضرت ﷺ کے اس مقام اور یہ کہ کس طرح آپ نے مردوں کو زندہ کیا اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ دنیا میں ایک رسول آیا تا کہ ان بہروں کو کان بخشے کہ جو نہ صرف آج سے بلکہ صد ہا سال سے بہرے ہیں۔کون اندھا ہے اور کون بہرا ؟ وہی جس نے تو حید کو قبول نہیں کیا اور نہ اس رسول کو جس نے نئے سرے سے زمین پر تو حید کو قائم کیا۔وہی رسول جس نے وحشیوں کو انسان بنایا اور انسان سے با اخلاق انسان یعنی بچے اور واقعی اخلاق کے مرکز اعتدال پر قائم کیا۔یعنی ایسے اعلیٰ اخلاق اور ایسے متوازن اخلاق کی تعلیم دی جس پر چل کر کسی قسم کے ظلم کا تصور ہی پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ انصاف، عدل اور ایتاء ذی القربیٰ کی تعلیم ہے اور پھر با اخلاق انسان سے باخدا ہونے کے الہی رنگ سے رنگین کیا۔وہی رسول، ہاں وہی آفتاب صداقت، جس کے قدموں پر ہزاروں مردے، شرک اور دہریت اور فسق اور فجور کے جی اٹھے“۔مجموعه اشتهارات جلد دوم صفحه 8 جدید ایڈیشن مطبوعه (ربوه پس یہ ہے وہ انسان کامل جس نے یہ انقلاب پیدا کیا اور یہ وہ انسان کامل ہے جس کے غلام صادق کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اپنے آقا و مطاع کی غلامی میں مردوں کو زندہ کرنے کے لئے بھیجا ہے۔پھر آنحضرت ﷺ کے اس مقام کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور جگہ اس طرح فرماتے ہیں کہ واضح ہو کہ قرآن کریم اس محاورے سے بھرا پڑا ہے کہ دنیا مر چکی تھی اورخدا تعالیٰ نے اپنے اس نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر نئے سرے دنیا کو زندہ کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید : 18) یعنی اس بات کو سن رکھو کہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے۔پھر اسی کے مطابق آنحضرت ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں فرماتا ہے وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِنْهُ (المجادلة: 23) یعنی ان کو روح القدس کے ساتھ مدددی۔اور روح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ایمان لانے کے بعد پھر ایمان میں