خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 371
خطبات مسرور جلد پنجم 371 خطبہ جمعہ 7 ستمبر 2007 ء لیا ہے۔ان بھٹکے ہوؤں تک بھی اسلام کی صحیح تعلیم پہنچا ئیں اور اپنے ہم قوموں کو بتا ئیں کہ اس اسلام کو اسلام نہ سمجھو جس کا اظہار ان لوگوں سے ہو رہا ہے بلکہ حقیقی اسلام کے لئے ہمارے پاس آؤ، ہماری بات سنو۔پس یہ پیغام پہنچانے کے لئے جامع پروگرام بنائیں اور یہی شکر گزاری اور اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بننے کا طریق ہے۔پاکستانی احمدیوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ اپنی حالتوں میں پہلے سے بڑھ کر تیزی کے ساتھ تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اپنی حالتوں میں انقلاب لانے کی کوشش کریں۔یہی صحیح شکر گزاری کا طریق ہے۔یہی اپنے بزرگوں کے نام کو زندہ رکھنے کا طریق ہے جنہوں نے احمدیت کی خاطر قربانیاں دی تھیں۔یہی آپ کا جماعت میں شامل ہو کر صحیح حق ادا کرنے کا طریق ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔جلسہ کی برکات میں سے ایک برکت یہ بھی حاصل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں گیارہ سعید فطرت مردوں، عورتوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور وہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔مردوں میں بھی دستی بیعت ہوئی، بہت ساروں نے دیکھا ہو گا ، جس میں دورانِ سال بعض نئے شامل ہونے والوں اور جلسہ کے دوران بھی پانچ یا چھ مردوں نے بیعت کی جو احمدی ہوئے تھے۔اس وقت بھی میں نے ان مرد نو مبائعین کی عجیب جذباتی کیفیت دیکھی تھی۔لیکن اس دفعہ بہت سوں کو علم نہیں، میں بتادوں کہ میں نے براہ راست جرمن عورتوں میں بھی بیعت لی ہے اور اس طرح لی تھی کہ اپنی بیوی کا ( محرم کا ہاتھ پکڑا جا سکتا ہے) ہاتھ پکڑ کے اور باقی عورتوں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اور پھر چین (Chain) بن کے 60-70 عورتوں نے اس طرح بیعت کی اور بیعت کرنے والیوں میں بعض بالکل نئی تھیں، ان کو احمدیت قبول کئے کچھ عرصہ ہوا تھا۔عموماً تو تمام عورتیں ہی اس وقت جذباتی کیفیت میں تھیں لیکن خاص طور پر ان نئی شامل ہونے والیوں کی حالت عجیب تھی ، جن کی احمدیت کی زندگی صرف چند دن یا چند مہینے تھی۔اس قدرا خلاص اور جذبات کا اظہار کر رہی تھیں کہ صاف نظر آرہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پناہ میں آکران میں ایک انقلاب آ گیا ہے۔بیعت کے الفاظ شروع ہوتے ہی انہوں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔بیعت کے بعد جو دعا ہوئی اس میں بھی ان کی تڑپ بیان سے باہر ہے اور جب میں وہاں سے اٹھ کر باہر آ گیا ہوں تو مجھے بتایا گیا کہ پھر وہ سجدہ شکر بجالانے کے لئے سجدہ میں پڑ گئیں۔یہ اس معاشرے کی وہ نو جوان تھیں جس نے خدا کو بھلا دیا ہوا ہے۔لیکن خدا کے مسیح اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق سے تعلق جوڑ کر انہوں نے اس دنیا اور