خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 342

خطبات مسرور جلد پنجم 342 خطبہ جمعہ 17 راگست 2007 ء ساتھ ہے اور کا فرذلیل وخوار ہوں گے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی کامل اطاعت کرو اور کسی کے حکم سے منہ نہ پھیرو۔یہ بات پھر ایمان میں مضبوطی پیدا کرے گی اور تم خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھتے چلے جاؤ گے۔یہ فتح کے وعدے مومنین کے ساتھ ہیں، کامل اطاعت گزاروں کے ساتھ ہیں، جماعت کی لڑی میں پروئے جانے والوں اور خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے والوں کے ساتھ ہیں۔پس اللہ اور رسول کی کامل اطاعت کرنے والے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان دعاؤں کے جو آپ نے جماعت کے حق میں کی ہیں حصہ دار بنیں گے، ان دعاؤں کے وارث بنیں گے۔اور اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اور تائید اور حفاظت کے وعدے ان سب کے حق میں پورے ہوں گے جو حقیقی مومن ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر موقع پر جب بھی ضرورت ہوگی مومنین کی مدد کو آئے گا جیسا کہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے اور ان کے دشمن کو جو جماعت کو نقصان پہنچانا چاہیں گے ہمیشہ خائب و خاسر کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک جگہ حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس پر ایسا جھپٹ کر آتا ہے جیسا ایک شیرنی سے کوئی اس کا بچہ چھنے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 438 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس رسوائی اور نا کا می حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفین کا مقدر ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ خدا آپ کی جماعت کے ساتھ ہے۔اگر ہم تقویٰ اور ایمان کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہوں گے تو اپنی زندگی میں یہ فتوحات اور غلبہ کے نظارے دیکھیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اور اپنے نفسوں کا محاسبہ کرتے ہوئے یہ معیار قائم کرنے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور اس پر با قاعدگی سے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ان انعاموں کا وارث بنائے جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا:۔انشاء اللہ تعالیٰ میں جرمنی کے سفر پر جا رہا ہوں۔اس مہینہ کے آخر میں وہاں ان کا جلسہ سالانہ ہے۔دعا کریں اللہ تعالیٰ اس سفر کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور بے انتہا فضلوں سے ہر آن نواز تار ہے۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 7 تا 13 ستمبر 2007 ء ص 5 تا 7 )