خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 299
خطبات مسرور جلد پنجم 299 خطبہ جمعہ 20 جولائی 2007ء اس بات کا اندازہ کر سکتا ہے کہ جس سے پیار ہو اس کی طرف منسوب ہونے والے تو ہر چیز سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں۔پس ہمیں ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے پیارے کے مہمان آ رہے ہیں جو ہمیں بہت پیارے ہیں اور اس نیت سے ان کی خدمت کرنی ہے۔اس جذبے کے ساتھ ہر کارکن اگر مہمانوں کی خدمت کرے گا تو اس خدمت کا لطف ہی اور ہوگا۔پس چاہے آپ کے عزیزوں میں سے جلسے کے لئے ذاتی مہمان آرہے ہوں یا جماعتی انتظام کے تحت جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کا انتظام کیا گیا ہے اور اس مہمان نوازی کی جوڈ یوٹیاں مختلف لوگوں کے سپرد کی گئی ہیں، ان سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی حتی الوسع خدمت کی تو فیق پانی چاہئے۔بعض ( مہمان) مجھے ملے ہیں، پہلی دفعہ پاکستان سے باہر نکلے ہیں۔یہاں ان کا کوئی عزیز بھی نہیں ہے۔یہ خالصتاً اس لئے آئے ہیں کہ جلسہ سالانہ میں بھی شامل ہو جا ئیں گے اور خلیفہ وقت سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔زبان کا بھی ان کو مسئلہ ہے، کئی بہت سادہ مزاج ہیں، جو دیہاتی ماحول کے ہیں لیکن پر خلوص دل رکھنے والے ہیں۔ان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھنی چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ یہی انبیاء کی سنت ہے، یہی اسلامی خلق ہے اور یہی آنحضرت ﷺ کا اسوہ ہے۔اور الہی جماعت میں شامل ہونے کا دعوی کرنے والے اپنے خلق کے یہی نمونے دکھاتے ہیں اور ہم احمدی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہونے کے بعد سب سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر عمل کرنے والے ہیں اور ہونے چاہئیں۔تو ہماری طرف سے تو اول طور پر اس خُلق کا اظہار ہونا چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے تو ایک جگہ ایمان کی نشانی مہمان کا احترام بتائی ہے جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے تین باتیں آپ نے بیان فرمائیں کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے اُسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب الحث علی اکرام الجار۔۔۔حدیث نمبر (47) اور مہمان کی یہ عزت صرف اپنے تک ہی محدود نہیں ہے۔اپنے عزیزوں تک ہی محدود نہیں ہے، اپنے قریبیوں سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر مہمان قطع نظر اس کے کہ اس کا دین اور مذہب کیا ہے، عزیز داری ہے کہ نہیں، اس کی مہمان نوازی کا آپ نے حکم دیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو مسافروں کا حق بتایا ہے اس میں بھی مہمان نوازی آتی ہے۔تو آنحضرت ﷺ کی سنت کیا تھی ؟ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص جو کافر تھا۔حضرت رسول اللہ ﷺ کے ہاں مہمان بنا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہ کر لانے کے لئے فرمایا جو اس کا فر نے پی لیا۔پھر دوسری اور تیسری یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔اگلی صبح اس نے اسلام قبول کر لیا تو آنحضرت ﷺ نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہنے کے لئے ارشاد فرمایا، دودھ