خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 10
خطبات مسرور جلد پنجم 10 خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007ء میں نے کہا باہر کی جماعتوں میں بھی وقف جدید کی یہ تحریک جاری کی گئی تا کہ باہر کی جماعتیں بھی اس نیک کام میں ہندوستان کی جماعتوں کی مدد کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے باہر کی جماعتیں اس تحریک میں بھی مالی قربانی کے لئے لبیک کہنے والی بنیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال وقف جدید میں بھی باقی چندوں کی طرح اضافہ ہو رہا ہے۔جوں جوں اللہ تعالیٰ کام میں وسعت دے رہا ہے جتنا جتنا کام پھیل رہا ہے اخراجات بڑھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ وسائل بھی مہیا فرمارہا ہے۔لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جماعت کے بڑی تیزی سے ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہیں اور اس لحاظ سے ضروریات بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمارہا ہے ضروریات پوری ہوتی ہیں۔لیکن ہمیں اس طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے تا کہ ہم بھی ان مالی قربانیوں میں حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن سکیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے افراد جماعت پر بھی انفرادی طور پر بہت فضل ہو رہے ہیں۔اس لئے ہمیشہ کی طرح اپنی قربانیوں کی طرف بھی خاص توجہ رکھیں تا کہ جو کمزور جماعتیں ہیں ہم ان کی مدد کر سکیں۔ہندوستان کی نئی جماعتیں بھی ہیں اور افریقہ کی جماعتیں بھی ہیں جو بہت معمولی مالی وسعت رکھتی ہیں۔گو کہ قربانی کی کوشش کرتی ہیں لیکن جتنی بھی ان کی وسعت ہے اس کے لحاظ سے، اپنے حالات کے لحاظ سے۔تو ان کی مدد کرنے کے لئے تربیت و تبلیغ کے لئے ، ان کی قربانیوں میں جو کمی رہ گئی ہے، اس کو پورا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔اس لئے بیرونی جماعتیں یا ان مغربی ملکوں کی جماعتیں جن کی کرنسی مضبوط ہے، انہیں خدمت دین اور دین کی مدد کے جذبے کے تحت ہمیشہ قدم آگے بڑھاتے چلے جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کرنے والوں کو اپنے فضلوں کو حاصل کرنے والا بتایا ہے۔جو آیت میں نے تلاوت کی اس میں بھی یہی فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رات اور دن اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا جو اجر ہے وہ میرے پاس ہے اور جس کو میں نے اجر دینا ہے اس کو اس بات کا خوف بھی نہیں ہونا چاہئے کہ چندے دے کر ہمارا کیا بنے گا، ہماری اور مالی ضروریات ہیں۔یہ خیال بھی تمہیں کبھی نہیں آنا چاہئے کہ مالی قربانیوں سے تمہارے مالوں میں کچھ کمی ہوگی۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میری خاطر قربانیاں دیتے ہیں ، سات سو گنا تک بڑھا کر بلکہ اس سے بھی زیادہ اجر دیتا ہوں۔پس کسی غم اور کسی خوف کا تو سوال ہی نہیں ہے، ہمیشہ ہر احمدی کو مالی قربانیوں میں آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے محبت اور رسول سے محبت کا تقاضا ہے کہ قربانی میں ہمارے قدم ہمیشہ آگے بڑھتے