خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page ii of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page ii

i پیش لفظ - لحمدللہ، خطبات مسرورکی پانچویں جلد پیش کی جارہی ہے جو حضرت خلیفہ مسیح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بیان فرمودہ 2007ء کے 52 خطبات جمعہ پر مشتمل ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ خطبات بیت الفتوح، بيت الفضل لندن، حدیقۃ المہدی آلٹن کے علاوہ ن سپیٹ ہالینڈ ، منہائم اور گروس گیراؤ جرمنی میں ارشاد فرمائے۔یہ تمام خطبات الفضل انٹر نیشنل لندن میں شائع شدہ ہیں۔ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وقت کے امام کو پہچانے کی تو فیق دی اور اسکا سراسر فضل واحسان ہے کہ اس نے ہمیں خلافت کے نظام میں شامل کیا۔ہمیں ایک خلیفہ عطا کیا جو ہمارے لئے در درکھتا ہے ، ہمارے لئے اپنے دل میں پیار رکھتا ہے ، اس خوش قسمتی پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔اس شکر کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ ہم خلیفہ وقت کی آواز کوسنیں ، اس کی ہدایات کو سنیں اور ان پر عمل کریں کیونکہ اس کی آواز کو سنتا باعث ثواب اور اس کی باتوں پر عمل کرنا دین و دنیا کی بھلائی کا موجب ہے۔اس کی آواز وقت کی آواز ہوتی ہے۔یہ الہی بندے زمانے کی ضرورت کے مطابق بولتے ہیں۔خدائی تقدیروں کے اشاروں کو دیکھتے ہوئے وہ رہنمائی کرتے ہیں اور الہی تائیدات ونصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے۔۔۔اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔“ ( الفرقان مئی جون 1967ء ص 37) پھر فرماتے ہیں: ” خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں نا کام ہیں۔“ ( خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936 ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936 ء )