خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 147

خطبات مسرور جلد پنجم 147 15 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2007ء (23 شہادت 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمُ ايْتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَّ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (الانفال : 4-3) اللہ تعالیٰ نے مومن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کے حوالے سے ان کے سامنے کوئی بات رکھی جائے، کوئی نصیحت کی جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔اس نصیحت کا ان پر اثر ہوتا ہے اور یہ نصیحت ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے، بعض دفعہ ذاتی مصروفیات، ذاتی مسائل یا کئی دوسری وجوہات کی وجہ سے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے دیئے گئے احکامات پر پوری طرح توجہ نہیں دے سکتا۔انسانی فطری کمزوریاں غالب آ جاتی ہیں۔بعض دفعہ شیطان سستیاں پیدا کر دیتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً یاد دہانی کرانے کا اور نصیحت کرنے کا ارشاد فرمایا ہے تا کہ جو حقیقی مومن ہے اس کو اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ پیدا ہو۔اگر حقیقی عذر ہیں تب بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے ان کو دور کرنے کے لئے دعا کرے۔اگر خود ساختہ بہانے ہیں تو نصیحت اور یاد دہانی اس کو جھنجوڑنے اور ہوشیار کرنے کے لئے کافی ہو جائے اور اُسے ہوشیار کرے کہ دیکھو جس رستے پر تم چل رہے ہو یہ غلط راستہ ہے، شیطان کی گود میں گر رہے ہو، بعض حکموں پر عمل نہ کرنے کے لئے شیطان تمہیں بہکا رہا ہے ہو تو یا درکھو اصل پناہ گاہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور تمہاری ضروریات کو پوری کرنے والی اور اپنے بندوں سے پیار کرنے والی بھی خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی نہیں ہے۔پس ہر حالت میں جنگی میں ، آسائش میں ہمسر میں، سیر میں مجبوری میں یا سہولت میں اگر کسی پر توکل کیا جاسکتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔پس جب حقیقی مومن کو اس خدا کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو یہ بات اسے ایمان میں بڑھاتی ہے اور ظاہر ہے جب ایمان میں بڑھے گا، جب احساس پیدا ہو گا کہ اوہو! ہم دنیاوی مصروفیات اور خود ساختہ مجبوریوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی بجائے دنیا وی سہاروں پر تو کل کرنے لگ گئے تھے تو پھر وہ اپنے حقیقی اور اصل سہارے کی طرف لوٹے گا اور تمام تر تو کل اس واحد ویگانہ پر ہوگا جورب ہے، رحمن ہے، رحیم ہے، اپنے بندوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ان کی دعاؤں کو سنتا ہے، مالک یوم الدین ہے، اپنے بندوں کے نیک اعمال کی جزا دیتا ہے، اپنی راہ میں کئے گئے ہر فضل اور ہر عمل کا بہترین بدلہ دیتا ہے۔یہی ایک