خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 110
خطبات مسرور جلد پنجم 110 خطبہ جمعہ 16 / مارچ 2007ء ہے۔اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس کی بجائے وہ ڈر کر بخل اور کنجوسی سے کام لیتے ہیں اور پھر ایسے لوگوں کو جیسا کہ ابھی مثال میں بھی دیکھا اللہ تعالیٰ پکڑتا ہے اور ان کا مال ان کے ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَوَ لَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا ملِكُونَ (یاس: (72) کیا انہوں نے دیکھا نہیں ہم نے اس میں سے جو ہمارے دست قدرت نے بنایا ان کی خاطر مویشی پیدا کئے۔پس وہ اس کے مالک بن گئے۔پس یہ جو اللہ تعالیٰ نے انعام دیا ہے اور تمہیں جائیدادوں اور مویشیوں کا مالک بنایا ہے یہ بات شکر گزار بنانے والی ہونی چاہئے اور ہمیشہ یہ خیال رہے کہ اصل مالک تو اللہ تعالیٰ ہے جس نے مجھے ان چیزوں کا مالک بنایا ہے۔جس نے دنیا کا یہ عارضی سامان ہمارے سپرد کیا ہے اور اس کی ملکیت ہمیں دی ہے اور ملکیت کی شکر گزاری کا یہ حق ہے جو اس طرح ادا ہو سکتا ہے جس طرح اس اندھے نے ادا کیا، جب یہ صورت ہو تو پھر جو اصل مالک ہے اور تمام قدرتوں کا مالک ہے اپنے انعامات سے نوازتا ہے اور یہ انعام ایمان پر قائم کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کی عبادت کی طرف توجہ دلانے والے ہوتے ہیں۔ورنہ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بعض اوقات ذلیل و رسوا کرتا ہے۔اس کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے اس کی مالکیت کے اظہار کے لئے اور اس کی مالکیت کی صفت سے حصہ لینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک دعا بھی سکھائی ہے تا کہ ہم ہمیشہ اس کے فضلوں کے حصہ دار بنتے رہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے قُلِ اللَّهُمَّ مَلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ۔۔إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (آل عمران (27) تو کہہ دے اے میرے اللہ ! سلطنت کے مالک تو جسے چاہے فرمانروائی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے فرمانروائی چھین لیتا ہے اور تو جسے چاہے عزت بخشتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے۔خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے یقینا تو ہر چیز پر جسے تو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔پس یہ بات ہمیشہ سامنے رہے اگر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی نہ کی جائے اس کے حکموں پر عم ر عمل نہ کیا جائے تو وہ جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے جس کے سامنے نہ حکومتیں کوئی چیز ہیں، نہ دولتیں کوئی چیز ہیں وہ اگر کمزوروں کا بھی مددگار بن جائے تو ان کو بھی عزت کے مقام پر کھڑا کر دیتا ہے اور طاقتوروں اور دولتمندوں کو رسوا اور ذلیل کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی اور قومی طور پر بھی سمیٹنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ اس کے احکامات پر عمل کیا جائے۔وہ سب قدرتوں کا مالک ہے۔وہ سب خیر کا سر چشمہ ہے۔اس نے ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ میرے احکامات پر عمل کرو تا کہ میری رضا حاصل کرنے والے بنو۔اللہ کرے کہ مسلم اُمہ بھی اس نکتے کو سمجھ لے جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے سب سے پہلے مخاطب ہیں تا کہ ان قوموں کے ہاتھوں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مغضوب اور ضال قرار دیا ہوا ہے، گھٹیا سلوک سے بچ جائیں۔ذلیل ورسوا ہونے کے سلوک سے بچ جائیں۔ان ظالم لوگوں نے بھی اپنی سزا بھگتنی ہے۔لیکن اگر زمانے کے امام کو نہ مان کر مسلمان ایک ہاتھ پر جمع نہ ہوں گے تو ان کو بھی سزا ملتی جائے گی۔اگر یہ ایک ہاتھ پر جمع ہو جائیں تو اتنی ہی جلدی یہ ذلت اور رسوائی کی مار اُن پر پڑے گی جن کو اللہ تعالیٰ نے مغضوب اور ضال قرار دیا ہے۔اب اللہ تعالیٰ کی یہی تقدیر