خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 109
109 خطبہ جمعہ 16 / مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم نے پوچھا کون سا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے جواب دیا بکریاں۔چنانچہ خوب بچے دینے والی بکریاں اسے دے دی گئیں۔پس ان تینوں کے پاس اونٹ گائے اور بکریاں خوب پھلی پھولیں۔جس نے اونٹ مانگے تھے اس کے ہاں اونٹوں کی قطاریں لگ گئیں۔اسی طرح گائیوں کے گلوں اور بکریوں کے ریوڑوں سے وادیاں بھر گئیں۔کچھ مدت کے بعد فرشتہ کوڑھی کے پاس خاص غریبانہ شکل وصورت میں آیا اور کہا میں غریب آدمی ہوں میرے تمام ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔خدا تعالیٰ کی مدد کے سوا آج میرا کوئی وسیلہ نہیں جس سے میں منزل مقصود تک پہنچ سکوں۔میں اس خدا تعالیٰ کا واسطہ دے کر ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھ کو خوبصورت رنگ دیا ہے، ملائم جلد دی ہے اور بے شمار مال غنیمت دیا ہے۔اس پر اس نے کہا مجھ پر بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔میں ہر ایک کو کس طرح دے سکتا ہوں۔انسان نما فرشتے نے کہا۔تو وہی کوڑھی غریب اور محتاج نہیں ہے جس سے لوگوں کو گھن آتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے تجھے صحت عطا فرمائی اور مال دیا۔اس پر وہ بولا تم کیسی باتیں کرتے ہو۔مال تو مجھے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملا ہے یعنی میں خاندانی امیر ہوں۔اس پر فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تو پہلے تھا۔پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور اس کو بھی وہی کہا جو پہلے کو کہا تھا۔اس نے بھی وہی جواب دیا جو پہلے نے دیا تھا۔اس پر فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تو پہلے تھا۔ان دونوں کا حال اس جھوٹ کی وجہ سے اور حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے ویسا ہی ہو گیا۔پھر وہ فرشتہ اسی ہیئت اور صورت میں اندھے کے پاس آیا اور اسے مخاطب کر کے کہا۔میں غریب مسافر ہوں سفر کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی مدد کے سوا منزل مقصود تک پہنچے کا کوئی وسیلہ نہیں پاتا۔تجھ سے میں اس خدا کا واسطہ دے کر مانگتا ہوں جس نے تجھے نظر واپس دے دی اور تجھے مال و دولت سے نوازا۔اس آدمی نے کہا بے شک میں اندھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دیا ہے جتنا چاہو اس مال میں سے لے لو اور جتنا چاہو چھوڑ دو۔سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی قسم آج جو کچھ بھی تم لو اس میں سے میں کسی قسم کی تکلیف اور تنگی محسوس نہیں کروں گا۔اس پر اس انسان نما فرشتے نے کہا اپنا مال اپنے پاس رکھو یہ تو تمہاری آزمائش تھی۔اللہ تعالیٰ تجھ سے خوش ہے اور تیرے دوسرے ساتھیوں سے ناراض ہے۔تو اس کی رحمت کا مستحق ہے اور وہ اس کے غضب کے مورد بن گئے۔(بخاری کتاب الانبياء باب حديث ابرص حدیث نمبر 3464 ) ( مسلم كتاب الزهد باب الدنيا سجن للمؤمن وجنة للكافر حديث نمبر 7325 ) تو اللہ تعالیٰ کا یہ غضب ان لوگوں پر اس دنیا میں نازل ہو گیا اور جس نے نیکی کی تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی اجر عطا فرمایا۔پس اللہ تعالیٰ کی مالکیت کا تصور ہمیشہ رہنا چاہئے۔جب وہ اپنے فضل سے دیتا ہے تو ایک مومن کے دل میں ہمیشہ یہ تصورا بھرتا ہے کہ یہ سب کچھ دینے والا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اس لئے میرے پر فرض بنتا ہے کہ اس کی راہ میں جس طرح اس نے حکم دیا ہے خرچ کروں لیکن مال کی محبت اللہ تعالیٰ کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔حالانکہ حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور دنیا دار ڈرتے ہیں۔یہ خیال نہیں رہتا کہ وہ مالک ہے جس نے پہلے دیا وہ آئندہ بھی دے سکتا