خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 611
خطبات مسرور جلد چهارم 611 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء لے چلیں اور کھانا کھا لیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ارد گرد دیکھا اور آواز دی کہ سب انصار اور مہاجرین میرے ساتھ چلو، کھانا کھا لو، جابر نے ہماری دعوت کی ہے۔تو کہتے ہیں اس پر تقریباً ایک ہزار لوگ جن کا فاقے سے برا حال تھا، وہ صحابی آپ کے ساتھ ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اپنی بیوی سے کہنا کہ جب تک میں نہ آ جاؤں ہانڈی چولہے سے نہیں اتارنی اور روٹیاں بھی پکانی شروع نہیں کرنی۔انہوں نے اپنی بیوی کو جا کے اطلاع کی تو انہوں نے کہا اب کیا ہوگا؟ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچتے ہی بڑے اطمینان سے جہاں کھانا پک رہا تھا ہانڈی اور آٹے پر دعا فرمائی۔پھر آپ نے فرمایا کہ روٹیاں پکانی شروع کر دو اور اس کے بعد آپ نے آہستہ آہستہ کھانا تقسیم کرنا شروع کر دیا۔جابر کہتے ہیں کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس کھانے میں سب لوگ سیر ہو کر اٹھ گئے اور ابھی ہماری ہنڈیا اُسی طرح ابل رہی تھی اور آٹا اسی طرح پک رہا تھا۔(بخاری کتاب المغازی حالات غزوه احزاب وفتح الباری جلد 7 صفحه 304-307) | تو اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب سلوک ہے ، ظاہری سامان تو پیدا فرمائے لیکن جیسا کہ صفت رب کے یہ معنے ہیں کہ بھوکے کو کھانا کھلانا ضرورت پوری کرنا ، حاجتیں پوری کرنا وہ اس ذریعہ سے معمولی سی دنیاوی مدد کے ساتھ اپنے جلوے دکھاتا گیا۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے اللہ تعالیٰ کا بندوں کو یہ بھی حکم ہے کہ تم میرے رنگ میں رنگین ہو۔میری صفات اپنانے کی کوشش کرو اور اللہ کے بندے ایک دوسرے کا بھی خیال رکھیں۔اس سے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور غیر انسان کا مربی بننا اور ادنیٰ سے ادنیٰ جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے اگر ایک خدا کی عبادت کا دعویٰ کرنے والا خدا کی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے، یہاں تک کہ کمال محبت سے اس الہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کرلے تا کہ اپنے محبت کے رنگ میں آجائے“۔(اشتہا ر واجب الاظہار۔مورخہ 4 /نومبر 1900ء - مشمولہ تریاق القلوب - تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 186) یہاں جو حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ انسان اور غیر انسان کا مربی بنا اور اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ انسان کا کام ہے۔یہاں مربی سے مراد صرف تربیت کرنے والا نہیں جو عام معنے رائج ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سر پرست اور پرورش کرنے والا بنا۔تو یہ نہم وادراک کہ اللہ تعالیٰ کے kh5-030425