خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 587 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 587

خطبات مسرور جلد چهارم 587 خطبہ جمعہ 24 نومبر 2006 ء منقطع نہ ہوگی۔پس یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آئندہ بھی نبوت کا راستہ کھلا ہے مصلح کا راستہ کھلا ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تربیت کے لئے مبعوث فرماتا ہے، جس کو دوسرے مسلمان نہیں مانتے۔تو رب کی صفت پر اگر یقین ہو اور ایمان ہو تو پھر اس بات پر بھی یقین ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالی آئندہ بھی نبی بھیج سکتا ہے جبکہ ہمارے دوسرے دوست کہتے ہیں کہ نہیں بھیجتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تمام دنیا کا خدا ہے۔اور جس طرح اس نے تمام قسم کی مخلوق کے واسطے ظاہری جسمانی ضروریات اور تربیت کے مواد اور سامان بلا کسی امتیاز کے مشترک طور پر پیدا کئے ہیں اور ہمارے اصول کے رُو سے وہ رب العالمین ہے اور اس نے اناج ، ہوا، پانی ، روشنی وغیرہ سامان تمام مخلوق کے واسطے بنائے ہیں اسی طرح وہ ہر ایک زمانے میں ہر ایک قوم کی اصلاح کے واسطے وقتا فوقتا مصلح بھیجتا رہا ہے۔جیسے علامہ رازی نے بھی لکھا تھا کہ سوال کرنے والے کے سوال سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ جب دیکھ لیتا ہے کہ دنیا بگڑ رہی ہے، حالات خراب ہو رہے ہیں تو اس وقت مصلح بھیج دیتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جن قوموں یا مذ ہبوں کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف انہی کو خاص کیا ہوا ہے جیسا کہ (اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس میں آریوں کا اور یہودیوں یا عیسائیوں کا ذکر کیا ہے ) ان کا خیال یہ ہے کہ صرف انہیں میں ہی مصلح آ سکتے ہیں، انہیں میں نیک لوگ پیدا ہو سکتے ہیں، انہیں میں نبی آ سکتے ہیں، اسرائیلیوں سے باہر کوئی نبی نہیں آ سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات سے اللہ تعالیٰ کو تمام جہانوں کا رب نہیں سمجھتے لیکن اسلام کے خدا کا تصوررت العالمین کا ہے، اسلئے قرآن کریم کی ابتداء ہی اس لفظ سے ہے۔آپ فرماتے ہیں: ” پس ان عقائد کے رد کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو اسی آیت سے شروع کیا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین اور جابجا اس نے قرآن شریف میں صاف صاف بتلا دیا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی خاص قوم یا خاص ملک میں خدا کے نبی آتے رہتے ہیں۔بلکہ خدا نے کسی قوم اور کسی ملک کو فراموش نہیں کیا اور قرآن شریف میں طرح طرح کی مثالوں میں بتلایا گیا ہے کہ جیسا کہ خدا ہر ایک ملک کے باشندوں کے لئے اُن کے مناسب حال ان کی جسمانی تربیت کرتا آیا ہے ایسا ہی اس نے ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم کو روحانی تربیت سے بھی فیضیاب کیا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے۔وَاِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر : 25 ) کہ کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا گیا۔kh5-030425