خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 557
خطبات مسرور جلد چهارم 557 خطبہ جمعہ 03 /نومبر 2006ء ہوگئی۔قدم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف ہے، ترقی معکوس ہو گئی ہے۔اور پچھلے سال انہوں نے پر ہیڈ (Per Head) 49 پاؤنڈ سے زیادہ چندہ دیا تھا۔اور اس سال وہ چندہ بھی گر کے 22 پاؤنڈ رہ گیا ہے۔پھر تحریک جدید میں تعداد بھی نصف سے کم شامل ہے۔ایک وجہ یہ پیش کریں گے کہ ہم مسجد بنار ہے ہیں جس کی خاطر بڑی قربانیاں ہو رہی ہیں۔بڑی اچھی بات ہے، ضرور بنائیں لیکن مسجدیں دنیا میں ہر جگہ بن رہی ہیں اور قربانیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔پھر میں نے ایک اور جماعت برمنگھم کا بھی جائزہ لیا۔اس میں بھی شامل ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے پچھلے سال یہاں 53۔96 پاؤنڈ پر ہیڈ (Per Head) ادا ئیگی تھی اور اس سال شکر ہے 54۔62 ہے ا اور ٹوٹل میں بھی تقریباً سات آٹھ سو پاؤنڈ کی رقم کا تھوڑا اضافہ ہوا ہے۔حالانکہ برمنگھم میں تو فی الحال کسی مسجد کا بہانہ بھی نہیں ہے۔لندن میں میں نے ایک جائزہ یہ لیا کہ یہاں جو جماعتیں ہیں، میری خواہش تھی اور اس خواہش کے مطابق ہی نتیجہ نکلا ہے کہ ان میں سے مسجد فضل کی ادائیگی سب سے بہتر ہے۔اور فی کس ادا ئیگی 101 پاؤنڈ ہے۔حالانکہ یہاں بھی وہی کمائی کرنے والے، اسی طرح کے لوگ رہتے ہیں۔تو یہ سب سے بڑھ کے ہے۔اور میرا خیال ہے سارے انگلستان میں سب سے زیادہ بڑھ کے ادا ئیگی کرنے والے مسجد فضل کے حلقے ہیں اور انہوں نے ٹوٹل وصولی میں اضافہ بھی تقریباً ڈیڑھ ہزار سے زائد کا کیا ہے۔بیت الفتوح والوں کا فی کس چندہ پچھلے سال سے گر گیا ہے۔34 پاؤنڈ تھا اور اس سال 23 پاؤنڈ رہ گیا ہے۔یہاں ان پر کون سا خاص بوجھ پڑا ہے۔ٹوٹنگ کی جماعت کے چندہ دینے والوں کی تعداد تو بڑھ گئی ، گزشتہ سال 255 چندہ دینے والے تھے اور اس سال 382 ہیں لیکن فی کس چندہ کی ادائیگی 4 پاؤنڈ کم ہو گئی ہے۔تو یہ ہے آپ کا جائزہ۔اب جماعتیں خود سوچ لیں۔دنیا کے جائزے میں میں پہلے بتا چکا ہوں انگلستان تیسرے نمبر پر آیا ہے۔اس لحاظ سے آپ کا کچھ تھوڑا سا تسلی بخش ہے مگر اتنا بھی نہیں۔تیسرے نمبر پر آنے کے باوجود بعض بڑی جماعتوں میں ادا ئیگی کم ہے۔دنیا میں ایک جائزہ میں نے یہ لیا ہے کہ کس ملک نے فی کس زیادہ چندہ دیا ہے تو امریکہ کا 91 پاؤنڈ اور U۔K کا 45۔85 بنتا ہے۔مسجدوں کی بات ہوئی تھی۔اللہ کے فضل سے امریکہ کا رجحان بھی آج کل بڑی تیزی سے مسجدیں بنانے کی طرف ہے۔انہوں نے کئی مساجد بنائی ہیں اور مزید بنانی ہیں، زمینیں خرید رہے ہیں۔ٹھیک ہے وہاں بہت آمدنی والے لوگ بھی ہیں لیکن بہر حال قربانی بھی اس لحاظ سے بہت کر رہے ہیں۔طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے لئے میں نے تحریک کی۔اس میں انہوں نے بہت بڑی رقم kh5-030425