خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 534
534 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 2006 ء پیدا ہو گئے ہیں۔اس سورۃ جمعہ میں اس زمانے میں مسیح موعود کے آنے کا بھی ذکر ہے۔یہ لوگ جو کھیل کود اور تجارتوں میں مشغول ہیں، مسیح موعود کی آواز پر بھی کان نہیں دھرتے اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سنے کو تیار نہیں، اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے۔لیکن وہ لوگ جو صحیح مومن ہیں، جنہوں نے مسیح موعود کو مانا ہے ان کو تو یہ حکم ہے کہ تمہارا کام تو عبادتوں کو زندہ رکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر رکھنا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود کو مانے کا انعام حاصل کرنے کے باوجود ذکر الہی کی طرف توجہ نہیں دو گے تو یاد رکھو کہ اللہ اور اس کے رسول اور مسیح موعود کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے کیونکہ تمہاری بیعت سے تو ان کو کوئی غرض نہیں۔تمام قسم کی نعمتیں جو تم حاصل کر رہے ہو ان کا سر چشمہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، ہر قسم کے رزق تو اس سے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ ان دل بہلاوے کی چیزوں سے اور تجارتوں سے بہت بہتر ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرو گے تو پھر ان نعمتوں سے بھی محروم رہو گے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر احمدی کو اس بات کو سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والا بنائے۔بھی یہ نہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں سے لا پرواہی برتنے والا ہو۔ایک حدیث میں آتا ہے ، حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعہ کے دن جمعہ پڑھنا فرض کیا گیا ہے۔سوائے مریض، مسافر، عورت، بچے اور غلام کے۔جس شخص نے لہو ولعب اور تجارت کی وجہ سے جمعہ سے لا پرواہی وہ برقی اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پرواہی کا سلوک کرے گا۔یقینا اللہ تعالیٰ بے نیاز اور حمد والا ہے۔(سنن دار قطنی کتاب الجمعة باب من تجب عليه الجمعة) پس فکر کے ساتھ جمعوں کی ادائیگی کرنی چاہئے اور جو استثناء ہیں ان کا اس حدیث میں ذکر ہو گیا کہ مریض کی مجبوری ہوتی ہے، نہیں جا سکتا۔پھر مسافر ہے، بعض دفعہ مجبوری سے سفر کرنے پڑتے ہیں اس لئے مسافر کے بارے میں بھی آگیا کہ اگر کوئی مسافر ہے۔لیکن جو عمداً بغیر کسی وجہ کے جبکہ وقت بدلا جا سکتا ہے جمعہ کے دن سفر کرتے ہیں، ان کی کوئی مجبوری نہیں ہے، ان کو بہر حال بچنا چاہئے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے سفر کو پسند فرماتے تھے تا کہ جمعہ سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔اسی طرح عورت کیلئے ضروری نہیں کہ وہ جمعہ پر ضرور آئے ، عید پر آنا ہر عورت کیلئے ضروری ہے۔جو بھی ہوش و حواس رکھنے والی عورت ہے اس کیلئے عید پر آنا تو بہر حال ضروری ہے، ہر حالت میں آنا ضروری ہے۔لیکن جمعہ پر آنا ہر عورت کیلئے ضروری نہیں ہے اسلئے یہ استثناء ہے۔اسی طرح غلاموں کو بھی مجبوریاں ہوتی ہیں، ان کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔بعض حالات میں وہ مجبور ہوتے ہیں ،ان کو کوئی گناہ نہیں۔kh5-030425