خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 490 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 490

خطبات مسرور جلد چہارم 490 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 2006 کیا ہے۔ایسی صورت میں اُن باپوں کو بھی تو وہ نمونہ دکھانا ہوگا جو حضرت ابراہیم کا نمونہ ہے۔پس دعاؤں کی قبولیت کے جو لوازمات ہیں ان کو پورا کرنے والے بنیں گے تو انشاء اللہ ، اللہ کے وعدے کے مطابق دعائیں بھی قبول ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو دعا کی قبولیت کے فلسفے کو سمجھتے ہوئے اپنی دعاؤں کے معیار بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور بھی قرآنی دعائیں ہیں جو انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔آج بھی نماز جمعہ کے بعد چند افراد کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ایک تو ہمارے سیرالیون کے رہنے والے سیرالیونی مبلغ سلسلہ ہارون جالو صاحب وفات پاگئے ہیں۔جامعہ احمدیہ پاکستان سے پڑھے ہوئے تھے۔یہ بیمار ہوئے تھے، شاید انکو کینسر ہوا تھا۔ان کی عمر چھوٹی ہی تھی، میرا خیال ہے انکی عمر 51 سال تھی۔ان کے تین بچے اور بیوہ ہیں۔سیرالیون میں ان کی تدفین ہوئی ہے۔ان کا جنازہ غائب ہوگا۔دوسرے قادیان کے عبدالسلام صاحب درویش ہیں۔یہ بھی 18 ستمبر کو وفات پاگئے۔مینجر پریس کے طور پر خدمت بجالاتے رہے اور بڑے دلیر، بہادر محنتی اور وفا سے کام کرنے والے انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔تین بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔پھر ہمارے سندھ کے رہنے والے چوہدری محمدعلی بھٹی صاحب ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کو اپنی زمینوں پر بھجوایا تھا، بہی خدمت کی۔اسی طرح انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ، حضرت خلیفۃ امسیح الرابع کی بھی لمبا عرصہ خدمت کی۔اور ان کے ایک جوان لڑکے جامعہ کے طالب علم تھے، مبارک احمد بھٹی صاحب 1971ء کی جنگ میں شہید ہو گئے۔آپ نے بڑے صبر سے صدمہ برداشت کیا۔نیز ان کے ایک داماد گھانا میں ہمارے واقف زندگی ڈاکٹر ہیں۔بڑے شریف اور مخلص انسان تھے۔ناصر آباد، حیدر آباد سندھ میں ایک چھوٹی سی جگہ ہے۔جب بھی وہاں آتے تھے، اکثر و ہیں رہتے تھے، اس بڑی عمر میں بھی وہ مسجد کی رونق تھے۔پھر ایک جنازہ داؤ دزمان صاحب، ان کی اہلیہ اور بیٹی کا ہے۔یہ کیلگری میں رہنے والے ہیں۔اس فیملی کا بھی گزشتہ دنوں ایک ایکسیڈنٹ ہوا جس میں دونوں میاں بیوی اور چھوٹی سی گیارہ ماہ کی بیٹی سب ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئے۔داؤد زمان صاحب کے نانا نے بھی حضرت مصلح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور لڑکی کے دادا نے بھی حضرت مصلح موعود کے زمانے میں ہی بیعت کی تھی۔مخالفت میں بڑے ثابت قدم رہے۔شازیہ اسلم جو فوت ہوئی ہیں یہ اشرف ناصر صاحب مرحوم جو مربی سلسلہ تھے ان کی بھتیجی۔ان سب کے جنازے ابھی نماز جمعہ کے بعد ہوں گے۔