خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 334
خطبات مسرور جلد چہارم 334 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 راجہ غلام حیدر صاحب جو ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے ریڈر تھے ان کا بیان ہے کہ ” جب عدالت ختم ہوئی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا ہم فوراً گورداسپور جانا چاہتے ہیں تم ابھی جا کر ہمارے لئے ریل کے کمرے کا انتظام کرو۔وہ کہتے ہیں کہ میں سٹیشن سے نکل کر برآمدے میں انتظام کرنے کے بعد کھڑا تھا تو میں نے دیکھا کہ سر ڈگلس سڑک پر ٹہل رہے ہیں اور کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی اُدھر جاتے ہیں۔چہرہ پریشان ہے۔میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ صاحب آپ باہر آ جا رہے ہیں میں نے ویٹنگ روم میں کرسیاں بچھا دی ہیں وہاں جا کے آپ تشریف رکھیں۔وہ کہنے لگے کہ منشی صاحب آپ مجھے کچھ نہ کہیں۔میری طبیعت خراب ہے۔انہوں نے کہا بتا ئیں تو سہی کہ آخر آپ کی طبیعت کیوں خراب ہے۔اس کا مناسب علاج کیا جاسکے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ میں نے جب سے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ کر کے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گنہگار نہیں ، ان کا کوئی قصور نہیں۔پھر میں نے عدالت کو ختم کر دیا اور یہاں آیا تو اب ٹہلتا ٹہلتا جب اس کنارے کی طرف جا تا ہوں تو وہاں مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کام نہیں کیا، یہ سب جھوٹ ہے۔پھر میں دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے، میں نے یہ کام نہیں کیا۔کپتان ڈگلس صاحب کہنے لگے کہ اگر میری یہی حالت رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا صاحب آپ چل کر ویٹنگ روم میں بیٹھے ، سپر نٹنڈنٹ پولیس بھی آئے ہوئے ہیں وہ بھی انگریز ہیں ان کو بلا لیتے ہیں شاید ان کی باتیں سن کر آپ تسلی پا جائیں۔تو ڈگلس صاحب نے کہا ٹھیک ہے سپر نٹنڈنٹ صاحب کو بلا لو۔چنانچہ انہیں جب بلایا گیا تو سر ڈگلس نے انہیں کہا کہ دیکھو یہ حالات ہیں۔میری جنون کی سی حالت ہو رہی ہے میں سٹیشن پر ٹہلتا ہوا اور گھبرا کر اس طرف جاتا تو وہاں کنارے پر مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کی شکل مجھے کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں۔مجھ پر جھوٹا مقدمہ کیا گیا ہے۔پھر میں دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں مرزا صاحب مجھے کھڑے نظر آتے ہیں۔تو میری حالت پاگلوں کی سی ہو رہی ہے۔تم اس سلسلے میں کیا مدد کر سکتے ہو۔مدد کرو ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔تو سپرنٹنڈنٹ صاحب نے کہا کہ آپ نے عبدالحمید کو عیسائی پادریوں کے سپرد کیا ہوا ہے اس کو پولیس کی تحویل میں دے دیں تو سارا کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔اس سے اصل حقیقت پتہ کر لیتے ہیں۔لیکن جب وہ پولیس کی تحویل میں آیا تو جس طرح اس سے بیان لئے جا رہے تھے تب بھی وہ مان نہیں رہا تھا کیونکہ انسپکٹر پولیس وغیرہ مخالفین کے ساتھ تھے۔تھوڑی دیر تک سپر نٹنڈنٹ نے جب دیکھا کہ یہ کوئی کامیابی نہیں ہو رہی تو اس نے خود ہی عبد الحمید کو اپنے پاس بلایا اور پوچھ گچھ شروع کی تو اس