خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 187

187 خطبہ جمعہ 14/ اپریل 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم دیکھیں گے تو اس کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔حالانکہ ظاہری اور باطنی صفائی کے لئے وضو ضروری ہے۔اور یہ نما ز سنوار کر پڑھنے کی پہلی شرط ہے۔قرآن کریم میں واضح طور پر اس بارے میں ارشاد ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿يَايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُ وَسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ (المائدة :7 ) کہ اے مومنو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منہ بھی اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ بھی دھولیا کرو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں بھی دھو لیا کرو۔تو اس حکم سے واضح ہو گیا کہ اگر پانی کی موجودگی ہے، اسلام اتنا سخت مذہب بھی نہیں، یہ وضو کی ساری شرط پانی کی موجودگی کے ساتھ ہے۔تو وضو کرنا ضروری ہے۔کیونکہ جہاں یہ صفائی کے لئے ضروری ہے وہاں نماز میں توجہ قائم کرنے کے لئے پوری طرح ہوشیار کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔اور وضو کرنے کے اہتمام سے نماز سے پہلے ہی یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ میں اللہ کے حضور جانے لگا ہوں اور دنیا داری کو جھٹک کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔یا اس طرح پاک ہو کر حاضر ہونے کی کوشش کرنی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان اور مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا منہ دھوتا ہے تو پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کی وہ تمام بدیاں دھل جاتی ہیں جن کا ارتکاب اس کی آنکھوں نے کیا ہو۔پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کی وہ تمام غلطیاں دُھل جاتی ہیں۔جو اس کے دونوں ہاتھوں نے کی ہوں۔یہاں تک کہ وہ گنا ہوں سے پاک اور صاف ہو کر نکلتا ہے۔پھر جب وہ پاؤں دھوتا ہے تو اس کی وہ تمام غلطیاں پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ دھل جاتی ہیں جس کا اس کے پاؤں نے ارتکاب کیا ہو۔یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک اور صاف ہو کر نکلتا ہے۔(مسلم كتاب الطهارة باب خروج الخطاء مع ماء الوضوء حدیث نمبر (465) تو یہ ہے وضو کی اہمیت۔لیکن اس سے یہ بھی مطلب نہیں لے لینا چاہئے کہ جان بوجھ کر غلطیاں کرتے رہو، بدنظریاں کرتے رہو، دوسروں کے حقوق مارتے رہو، اپنے مفاد کے لئے دوسروں کو دھو کہ دیتے رہو اور پھر وضو کر لو تو پاک ہو گئے۔یہ بڑا واضح حکم ہے کہ اگر تم رحمن کے بندے ہو تو پھر اس کا خوف بھی دل میں رکھو۔تو جو اللہ کا خوف دل میں رکھنے والا ہوگا وہ عادی مجرم نہیں ہوگا بلکہ انجانے میں جو غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں اور ان پر وہ فکر مند رہتا ہے ان سے انسان پاک ہو جاتا ہے۔پھر نماز کو سنوار کر ادا کرنے کے سلسلے میں ایک اہم بات وقت پر نماز پڑھنا ہے۔یہ وقت پر نماز پڑھنے کا احساس اور عادت ہی اس وصف کو نمایاں کرنے والی ہوگی کہ یہ انسان یا مومن بندہ نما ز سنوار کر پڑھنے کی عادت اور خواہش رکھتا ہے اور اس کو عادت بھی ہے۔نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ان kh5-030425