خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 640
خطبات مسرور جلد چهارم 640 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 2006 ء پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا لٹریچر اور تبلیغ کا ہر ذریعہ اختیار کرنا چاہئے۔چند ہزار میں لٹریچر شائع کر کے پھر بیٹھ رہنا کہ وہ کروڑوں کی آبادی کے لئے کافی ہو گا جنت الحمقاء میں بسنے والی بات ہے۔ٹھیک ہے ہمارے وسائل ایک حد تک ہیں لیکن جو ہیں ان کا تو صحیح استعمال ہونا چاہئے۔ایک طرف توجہ ہوتی ہے تو دوسری طرف بھول جاتے ہیں۔پس صرف مرکزی سطح پر نہیں بلکہ ہر ریجن میں ، ہر شہر میں ، ہر اُس علاقے میں جہاں احمدی بستے ہیں یا نہیں بستے ایک تعارفی پمفلٹ چھوٹا سا پہنچ جانا چاہئے اور پھر جیسا کہ میں نے کہا دوسرے الیکٹرانک ذرائع کا استعمال کریں۔پوپ کی تقریر کے جواب میں انہوں نے ایک چھوٹا سا جواب تیار کیا تھا تو میرے کہنے پر کہ ایک تفصیلی کتابچہ شائع کریں جرمنی کی جماعت وہ جواب تیار کر رہی ہے۔ان کو مرکز سے اور دوسری مختلف جگہوں سے ہم نے مواد مہیا کر دیا تھا۔یہ مرکزی طور پر تیار ہو رہا ہے اور اب تک تیار ہو جانا چاہئے تھا۔بہر حال میرے خیال میں آخری مراحل میں ہے۔اللہ کرے کہ جلد چھپ جائے تو پوپ کو بھی اور یہاں کے ہر پڑھے لکھے شخص کے ہاتھ میں پہنچ جانا چاہئے جس سے پتہ چلے کہ اسلام کا خدا کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہے اور آپ کا اسوہ حسنہ کیا ہے۔وہ ہستی جس کو یہ ظلم اور دہشت گردی اور شدت پسندی کا سمبل (Symbol) سمجھتے ہیں وہ تو سراپا رحم ہے۔رحمتہ للعالمین کا لقب پانے والا ہے۔جو سب سے بڑھ کر پیار محبت اور عاجزی کا علمبر دار ہے اور تعصب کی نظر سے نہ دیکھنے والے غیروں نے بھی جس کی تعریف کی ہے۔پس یاد رکھیں کہ لڑ پچر اورتبلیغی مواد مہیا کرنا جہاں ملکی مرکز کا کام ہے وہاں میدان عمل میں اسے ہر گھر میں پہنچانا نہیں بلکہ ہر ہاتھ میں پہنچانا ہر چھوٹے بڑے، بوڑھے، جوان کا کام ہے۔آپ کا کام ہے مستقل مزاجی سے اس کام میں جتے رہنا اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔نتائج پیدا کرنے کی ذمہ داری خدا تعالیٰ کی ہے لیکن اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو طریق بتایا ہے وہ بہر حال اختیار کرنا ہوگا۔ور نہ اپنی غلطیوں اور سستیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والی بات ہوگی۔تبلیغ کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرما دیا کہ صالح اعمال بجالانے والے ہو اور مکمل طور پر فرمانبردار ہو۔نظام جماعت کا احترام ہو اور اطاعت کا مادہ ہو تبھی دعوت الی اللہ بھی کر سکتے ہو اور تم اس کا پیغام جو پہنچاؤ گے وہ اثر رکھنے والا بھی ہوگا۔کیونکہ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد بھی حاصل ہوگی۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی باتوں کو پسند کرتا ہے جو ان خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔فرماتا ہے کہ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ المُسْلِمِين ( حم سجدہ: 34) یعنی اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلاتا kh5-030425