خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 536
536 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم کیونکہ آج کل جو معاشرے کا حال ہے ، گندگیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔وہ دعا ہے رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ (العنکبوت:31) کہ اے میرے رب اس فساد کرنے والی قوم کے خلاف میری مدد کر۔آجکل جیسا کہ میں نے کہا دنیا تمام قسم کی برائیوں میں ملوث ہے اور اس وجہ سے فساد پھیلا ہوا ہے۔اور یہی لہو ولعب ہے جس نے مسلمان کہلانے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے وہ مسیح موعود کو بھی ماننے سے انکاری ہیں۔اور سورۃ جمعہ کی جو آخری آیت ہے ، جیسا کہ میں نے بتایا تھا اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا کی چکا چوند سے تم خدا تعالیٰ کو بھول گئے ہو جس کی وجہ سے امام الزمان کی مدد کرنے کی بجائے اسے چھوڑ کر ایک طرف کھڑے ہو گئے ہو۔پس موجودہ زمانے کی برائیوں سے بچنے کے لئے جب کہ سفروں کی سہولتیں بھی میسر ہیں ، سیٹلائٹ رابطوں کی وجہ سے تمام دنیا تقریبا ایک ہو چکی ہے، ایک خبر دوسری جگہ فوراً پہنچ جاتی ہے، تصویر یں پہنچ جاتی ہیں، ایک دوسرے کے کلچر پہنچ رہے ہیں، روایات پہنچ رہی ہیں، برائیوں کے سمجھنے کے معیار ہی بدل گئے ہیں۔بعض چیزوں میں احساس ہی نہیں رہتا کہ فلاں چیز برائی ہے، غور کرنے کی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں تو اس دعا کی بہت زیادہ ضرورت ہے تا کہ ہر احمدی اور اس کی نسلیں چاہے وہ مشرق کا ہے، چاہے وہ مغرب کا ہے، ہر قسم کے گند سے اور برائیوں سے محفوظ رہے اور پھر اس طرح فتنوں اور فسادوں سے بیچار ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دعا سکھائی، جو اپنے آپ کو سیدھے راستے پر چلانے اور اپنی خواہشات، اعمال اور اخلاق کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق چلانے کے لئے بہت ضروری ہے۔اور آجکل جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتا دیا ہے کہ اتنی مختلف النوع برائیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئے بغیر ان سے بچنا اور ان سے نجات بہت مشکل ہے۔اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو یہ دعا ہے، یہ بھی اس زمانے کے لئے بڑی ضروری ہے۔حضرت زیاد بن علاقہ اپنے چا عتبہ بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اللهم انى اَعُوْذُبِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَ الْأَعْمَالِ وَالَّا هُوَاءِ۔(سنن ترمذی کتاب الدعوات باب جامع الدعوات) کہ اے میرے اللہ میں بُرے اخلاق اور بُرے اعمال اور بُری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔پھر بخشش اور مغفرت کے لئے ایک دعا ہے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ رَبِّ اغْفِرْلِيْ خَطِيئَتِي وَ جَهْلِيْ وَإِسْرَافِي فِى أَمْرِى كُلِّهِ وَانْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّى اللَّهُمَّ اغْفِرْلِيْ خَطَايَايَ وَعَمَدِيْ kh5-030425